پشاور (مانند نیوز) صحافیوں کے لیے مختص خیبرپختونخوا حکومت کے جرنلسٹ ویلفئیر انڈومنٹ فنڈز کو لے کر ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے، جب سینئر صحافی کی جانب سے ان فنڈز کی غیر شفاف تقسیم، اقربا پروری اور قانونی خلاف ورزیوں پر مبنی شکایت صوبائی اور وفاقی سطح کے متعدد محکموں کو بھیجی گئی۔ اس شکایت میں معلومات تک رسائی کے حق، انسانی مساوات اور ریاستی شفافیت کی سنگین خلاف ورزیاں اٹھائی گئی ہیں۔ تاہم محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے موجودہ سربراہ ڈائریکٹر جنرل نے اس شکایت کے جواب میں جس رویے اور زبان کا استعمال کیا، وہ نہ صرف ناقابل قبول ہے بلکہ اسے شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کے خلاف ایک کھلی بغاوت قرار دیا جا سکتا ہے۔مختلف اداروں کو شکایت میں متعدد سنجیدہ الزامات عائد کیے جن میں غیر مستحق، کروڑ پتی، اور اخبار مالکان کو ویلفیئر فنڈز کی تقسیم، شفافیت کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے معلومات کو خفیہ رکھتے ہوئے میرج (شادی) گرانٹس اور میڈیکل امداد کا غلط استعمال کے بارے میں انکشافات سمیت گزشتہ دس سالہ آڈٹ رپورٹس کی عدم موجودگی شامل تھے۔ یہ الزامات نہ صرف عوامی وسائل کی بدترین بدانتظامی کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ یہ فنڈز ان صحافیوں کے منہ پر طمانچہ ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر زمینی حقائق کی رپورٹنگ کرتے ہیں لیکن مالی طور پر انتہائی پریشان ہیں۔معلومات تک رسائی کے قانون کے سیکشن 5 کے مطابق تمام عوامی ادارے اس بات کے پابند ہیں کہ وہ فنڈز کی تقسیم، مقاصد، اور استفادہ کنندگان کی معلومات عوام کے سامنے لائیں۔ لیکن موصوف ڈائریکٹر جنرل نے نہ صرف ان معلومات کو چھپایا بلکہ جواب میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ ” مبینہ بندر بانٹ شدہ فنڈز کی تفصیلات دینا شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے معلومات خفیہ ہیں۔”یہ مؤقف نہ صرف حق معلومات کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی حقوق اور آئینی آزادیوں کے منافی بھی ہے۔ اگر فنڈز واقعی میرٹ پر تقسیم ہو رہے ہیں تو پھر شرمندگی کیسی؟ اور اگر نہیں، تو پھر خفیہ رکھنے کی کوشش کیا ظاہر کرتی ہے؟واضح رہے کہ محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے سربراہ کی جانب سے یہ کہنا کہ صحافی ایسی شکایات کا عادی ہے اور عوامی اداروں کا قیمتی وقت ضائع کرتا ہے۔” کیونکہ مذکورہ صحافی محکمہ اطلاعات کی بدعنوانیوں کو بے نقاب کرنے میں سر فہرست رہا ہے۔ ڈی جی انفارمیشن کا یہ بیان نہ صرف شکایت کرنے والے صحافی کی توہین ہے بلکہ یہ پاکستان کے آئین میں دیے گئے شہریوں کے شکایت کے حق کی بھی توہین ہے۔ کیا ایک شہری کی آواز بلند کرنا اب ریاستی اداروں کے لیے بوجھ بن گیا ہے؟ کیا ایک عام صحافی کو صرف اس لیے رسوا کیا جائے گا کہ وہ سوال اٹھا رہا ہے؟محکمے کا مؤقف کہ "فنڈز کی معلومات دینا شرمندگی کا باعث بن سکتی ہے” خود اس بات کا اعتراف ہے کہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔ اگر فنڈز مستحقین کو مل رہے ہیں، تو ان تفصیلات کو ظاہر کرنا ان کی مدد کی ایک مثال ہو سکتی ہے، شرمندگی نہیں۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ ان تفصیلات کے منظر عام پر آنے سے وہ نام سامنے آئیں گے جو بااثر اور مالی طور پر مضبوط افراد ہیں—جو اس فنڈ کے مستحق نہیں۔ جب اصل ضرورت مند صحافی بے بسی کی حالت میں ہیں، تو پھر اس فنڈ کا استعمال ذاتی پسند نا پسند اور اقربا پروری و رشتے داری نبھانے کے لیے کرنا قوم کے ساتھ مذاق ہے۔یہ سکینڈل دراصل اس سے بھی بڑا سوال اٹھاتا ہے: کیا خیبر پختونخوا میں صحافیوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے بنائے گئے فنڈ کو واقعی ان کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے؟ یا یہ فنڈ چند مخصوص افراد کی مرضی سے بانٹا جا رہا ہے؟ یہ سوال ہر صحافی، ہر شہری، اور ہر باخبر فرد کے ذہن میں اٹھنا چاہیے۔ یہ صحافت کی ساکھ، شہری آزادی، اور ریاستی شفافیت کا مسئلہ ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہے، تو کل کوئی بھی ادارہ عوامی وسائل پر قبضہ جما کر خفیہ رکھے گا اور آواز بلند کرنے والوں کو "عادی شکایت کنندہ” کہہ کر خاموش کرا دیا جائے گا۔