اپر چترال (مانند نیوز)ضلع لوئر چترال میں بھیک مانگنے اور چندہ /فنڈز کی غیر مجاز وصولی پردفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کردی گئی۔ دیگر اضلاع سے لوئر چترال آنے والے بھکاریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اور جب کہ کچھ بھکاری چترال شہر کے ملحقہ دیہاتوں کا رخ کر رہے ہیں، لوگوں کے گھروں میں گھس کر مساجد کے سامنے بیٹھ کر بھیک مانگ رہے ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں سے لوگ مساجد اور مدارس کے لیے چندہ اکٹھا کرنے، بازاروں اور مساجد میں چندہ مانگنے کے بہانے چترال کا رخ کر رہے ہیں۔جب کہ یہ سرگرمیاں عوامی پریشانی اور کمزور افراد کے استحصال کا باعث بنتی ہیں۔اس طرح کی سرگرمیاں عوامی راستوں اور بازاروں میں رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں، جس سے عام لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے اور کاروباری سرگرمیوں میں خلل پڑتا ہے۔ایسے افراد کا مجرمانہ نیٹ ورکس سے روابط کے امکانات ہوتے ہیں جس سے علاقے کے امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے علاقے میں امن و امان کو برقرار رکھنے کیلئے ڈپٹی کمشنر لوئر چترال محسن اقبال نے دفعہ 144 نافذ کر دیا ہے۔ جس کے تحت علاقے میں کسی بھی مقصد کے لیے بھیک مانگنے اور چندہ /فنڈز کی غیر مجاز وصولی پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔ یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور 2 ماہ کے مدت تک نافذ رہے گا۔ اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔