سوات (مانند نیوز)سوات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ٹیکس نا منظور تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا، ملاکنڈ ڈویژن کے تمام سیاسی جماعتوں، ٹریڈرز فیڈریشن،تاجر تنظیموں، چیمبرز، وکلاء، صحافی اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کو اعتماد میں لیکر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے گاجبکہ عوامی تحریک چلائی جائے گی، اس سلسلے میں گزشتہ روز سوات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا اہم اجلاس زیر صدارت صدر نور محمد خان منعقد ہوا جس میں سینئر نائب صدر محمد خورشید اقبال، نائب صدر خالد خان، فوکل پرسن یوسف علی خان، فرہاد علی خان، رحیم زادہ، محبوب ہارون، عبیدا للہ عابد،سلمان، عبدالبصیر، امجد، شہزاد اکبر، ہارون رشید، محمد انور اور دیگر شریک ہوئے اجلاس میں 10 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ اور اس پر عوامی رد عمل کے حوالے سے تفصیلی بحث کی گئی، فاٹا کو بحال کرنے کیلئے حکومت اقدامات کر رہی ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ اسکے ساتھ پاٹا کی پرانی حیثیت بحال کرے، اجلاس کو بتایا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں روزگار نہ ہونے کے برابر ہے یہاں کے لوگ قدرتی آفات اور کشیدگی سے متاثرہ ہیں اگر حکومت بیروزگار افراد کو روزگار مہیا نہیں کر سکتی تو ٹیکس لگا کر پہلے سے موجود صنعتیں ختم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اجلاس میں تجاوزات کیخلاف آپریشن میں عوامی املاک کی مسماری پر بھی بحث کی گئی، حکومت اور انتظامیہ نے اپنی غفلت چھپانے کیلئے آپریشن کا سہارا لیا فوری طور پر متاثرین کی داد رسی کی جائے، سوات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کیلئے خریدی گئی اراضی کی فروخت اور کسی اور موزوں جگہ پر اراضی کے حوالے سے کمیٹی قائم کی گئی جس میں محبوب ہارون، یوسف علی خان، اور عدنان علی شامل ہونگے وہ اس اُمور کی نگرانی کرینگے۔