اسلام آباد (مانند نیوز)انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے چینی کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ دینے پر تحفظات ظاہر کر دیے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے 7 ارب ڈالر قرض پروگرام متاثر ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے جس کے بعد حکومت نے چینی کی درآمد پر دی گئی ٹیکس چھوٹ واپس لینے پر غور شروع کر دیا۔
ذرائع کے مطابق چینی درآمد کا فیصلہ مکمل طور پر ختم کیے جانے کا بھی امکان ہے، نجی شعبے کے لیے دی گئی ٹیکس چھوٹ واپس لینے پر بھی غور جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیے
چینی کی خوردہ قیمت 165 روپے کلو، حکومت اور شوگر ملز میں اتفاق، سابق نگراں وفاقی وزیر فواد حسن فواد نے چینی درآمد کرنے کے فیصلے پر سوالات اٹھا دیئے
چینی کی قیمت 200 روپے کلو تک جا پہنچی
واضح رہے کہ حکومت نے 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی درآمد پر تمام ڈیوٹیز معاف کر دی تھیں۔
ذرائع کے مطابق چینی درآمد پر ٹیکس چھوٹ آئی ایم ایف معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے، آئی ایم ایف نے درآمد پر ٹیکس چھوٹ کی حکومتی وضاحت مسترد کر دی۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے مؤقف اپنایا ہے کہ چینی کی درآمد فوڈ ایمرجنسی کے تحت کی جا رہی ہے۔
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کابینہ نے وزارت خزانہ کی رائے کے بغیر چینی درآمد کی منظوری دی جبکہ ٹی سی پی 3 لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کا ٹینڈر پہلے ہی جاری کر چکا ہے، چینی درآمد کی بولی جمع کرانے کی آخری تاریخ 18 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ چینی کی قیمت تاریخ میں پہلی بار 200 روپے فی کلو سے تجاوز کر چکی ہے۔