سوات ( مانند نیوز)سوات کی تحصیل خوازہ خیلہ کے علاقے چالیار میں مدرسے میں ہونے والے لرزہ خیز تشدد اور 12 سالہ طالبعلم فرحان کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا، جہاں قتل میں ملوث دو ملزمان عبداللہ اور بخت امین کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا، جب کہ تشدد کیس میں گرفتار آٹھ ملزمان کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔فرحان 21 جولائی کی شام مدرسے میں مبینہ طور پر اساتذہ کے شدید تشدد کے نتیجے میں جاں بحق ہوا تھا، جس کے بعد دیگر طلبا پر بھی تشدد کے شواہد سامنے آئے۔ واقعے پر علاقہ مکینوں اور اہلِ خانہ کی جانب سے شدید احتجاج اور دھرنے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ دوسری جانب واقعے کے دو مرکزی ملزمان، مہتمم مدرسہ قاری عمر اور اس کا بیٹا احسان اللہ تاحال روپوش ہیں، جن کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔