جنوبی وزیرستان (نمائندہ خصوصی) غیر سرکاری تنظیم آئی ایس ڈی (Integrated Service Delivery) نے جنوبی وزیرستان میں صحت کے منصوبے کے آغاز سے ہی بےضابطگیوں کا سلسلہ شروع کر دیا، ذرائع کے مطابق 60 سے زائد آسامیوں پر بھرتیوں کے لیے نہ تو کسی اخبار میں اشتہار دیا گیا اور نہ ہی مقامی سطح پر کوئی تشہیر کی گئی۔ صرف ایک ویب سائٹ پر اشتہار دے کر رسمی کارروائی پوری کی گئی، جس کے فوراً بعد انٹرویو کا عمل شروع کیا گیا اور من پسند افراد کو بلا کر اُن کی تعیناتیاں کر دی گئیں باوثوق ذرائع کے مطابق بھرتیوں کا عمل خفیہ طور پر مکمل کیا گیا اور نہ ڈی ایچ او جنوبی وزیرستان کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ کو اطلاع دی گئی۔جب ڈی ایچ او جنوبی وزیرستان سے مؤقف لیا گیا تو انہوں نے کہا:مجھے پہلے بتایا گیا تھا کہ انٹرویو کے دوران مجھے شامل کیا جائے گا، مگر بعد میں آئی ایس ڈی کے عملے نے میرے بغیر خود انٹرویو لیے اور تعیناتیاں کر دیں۔ مجھے اس حوالے سے کسی بھی سطح پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق بھرتیوں میں غیر مقامی افراد کو شامل کیا گیا جبکہ اہل مقامی نوجوانوں کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔ بعض اطلاعات کے مطابق بھرتیاں مالی مفادات کے تحت آگے بڑھائی گئیں۔ قبائلی امن جرگے کے چیئرمین ملک حیات اللہ محسود نے اس صورتحال پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل مقامی نوجوانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، کور کمانڈر پشاور، آئی جی ایف سی ساؤتھ، کمشنر ڈیرہ ڈویژن ، اور ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان اپر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس این جی او کے خلاف فوری کارروائی کریں اور ان غیر قانونی اقدامات کی روک تھام کے لیے عملی قدم اٹھائیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جس این جی او نے آغاز ہی غیر قانونی طریقوں سے کیا ہے، اس سے علاقے کے لیے خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کے منصوبے میں ڈی ایچ او کو اعتماد میں نہ لینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آئی ایس ڈی صرف کمائی کے لیے وزیرستان آئی ہے، عوامی فلاح و بہبود اس کا مقصد نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان غیر شفاف بھرتیوں کو منسوخ نہ کیا گیا اور مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم نہ کیے گئے تو وہ احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔