مانند نیوز (اسلام آباد)
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کیساتھ ساتھ دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے پارلیمانی کردار، مضبوط قانون سازی اور ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافہ کرنا ناگزیر ہے۔ بدلتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اجتماعی، مربوط اور جامع قومی ردعمل کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں SSDO کے زیرانتظام انتہاپسندی و دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے مکالمے پر مبنی ورکشاپ سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا- اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا نے سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیش(SSDO) کو بروقت اور بامقصد مکالمے پر مشتمل ورکشاپ کے انعقاد پر خراجِ تحسین پیش کیا-
ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ ایسے پلیٹ فارمز اور مکالمے محض رسمی اجتماعات نہیں بلکہ اجتماعی غور و فکر، ہم آہنگی اور مؤثر پالیسی سازی کے لیے اہم مواقع فراہم کرتے ہیں، دہشت گردی پاکستان کے امن، سماجی ہم آہنگی اور معاشی ترقی کے لیے بدستور ایک سنگین خطرہ ہے۔پاکستان نے سیکیورٹی آپریشنز اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں،انہوں نے کہا کہ شدت پسند نیٹ ورکس کے خاتمہ دہشتگردوں کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مالیاتی ذرائع کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے، خیبرپختونخوا کو ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، پارلیمنٹ انسدادِ دہشت گردی اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف فریم ورک کی تشکیل میں مرکزی کردار رکھتی ہے، ڈائیلاگ ورکشاپ میں گورنر خیبر