شانگلہ(مانند نیوز)شانگلہ یونیورسٹی میں سرکاری نوکریوں کیلئے بھاری فیس پر عوامی حلقوں کا سخت ردعمل، ہائیرایجوکیشن کے صوبائی وزیر وپروچانسلریونیورسٹی آف شانگلہ میناخان، یونیورسٹی آف شانگلہ کی انتظامیہ سے بھاری فیسوں پر فوری نظر ثانی کا مطالبہ۔ یونیورسٹی آف شانگلہ کی جانب سے سپورٹنگ سٹاف کی آسامیوں کے لیے درخواست فارم کی فیس 3000 ایڈمنسٹریٹوسٹاف کی فیس 5000 روپے مقرر کیے جانے پر ضلع شانگلہ میں شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہیں۔ ماہرین تعلیمات، مقامی نوجوانوں، سماجی کارکنوں اور عوامی حلقوں نے اس اقدام کو غریب اور پسماندہ ضلع کے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ہیں۔شانگلہ جیسے پسماندہ ضلع میں جہاں پہلے ہی روزگار کے مواقع محدود اور تعلیمی و معاشی وسائل نہایت کم ہیں وہاں بیروزگار نوجوانوں کے لیے ہزاروں روپے فیس ادا کرنا ایک بڑا بوجھ بن چکا ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہیں کہ ایسے حالات میں بھاری فیس رکھنا نوجوانوں کو ملازمت کے مواقع سے دور کرنے کے مترادف ہیں۔شہریوں کا مؤقف ہیں کہ ملک کی دیگر سرکاری جامعات میں اسی نوعیت کی آسامیوں کے لیے فیس نسبتاً کم رکھی جاتی ہے جبکہ یہاں ایک غریب ضلع کے امیدواروں سے 3000 سے 5000 روپے طلب کرنا سراسر زیادتی ہیں۔ ان کا کہنا ہیں کہ یہ اقدام میرٹ کے بجائے صرف مالی استطاعت رکھنے والوں کو فائدہ پہنچاتا ہیں۔مقامی نوجوانوں نے مطالبہ کیا ہیں کہ درخواست فیس کو فوری طور پر کم از کم سطح پر لایا جائے تاکہ ہر مستحق امیدوار بلاامتیاز اپلائی کر سکے۔ عوامی نمائندوں اور اعلیٰ حکام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس مسئلے کا نوٹس لیں اور نوجوانوں کے حق میں فیصلہ کریں۔عوامی حلقوں کے مطابق سرکاری تعلیمی اداروں کا مقصد تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہوتا ہیں نہ کہ غریب طبقے پر اضافی مالی بوجھ ڈالنا۔ ان کا کہنا ہیں کہ اگر فیسوں میں فوری کمی نہ کی گئی تو نوجوان طبقے میں مزید مایوسی پھیلے گی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہیں کہ وہ یونیورسٹی انتظامیہ کو فیسوں میں کمی کا پابند بنائیں اور اس فیصلے پر نظرثانی کروائیں تاکہ شانگلہ کے نوجوان اپنے ہی علاقے میں روزگار حاصل کر سکیں۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے