شانگلہ(مانند نیوز)شانگلہ کے دور دراز پہاڑی علاقے لاڑیئ میں عبدالامین نامی شخص کے گھر میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ واقعہ اتنی تیزی سے پیش آیا کہ اہلِ خانہ کو اپنا قیمتی سامان نکالنے کا موقع بھی نہ مل سکا۔ آگ لگنے کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں تاہم ابتدائی طور پر شارٹ سرکٹ یا چولہے کی چنگاری کو ممکنہ سبب قرار دیا جا رہا ہیں۔ آگ کے شعلے بلند ہوتے ہی علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ مدد کے لیے دوڑ پڑے۔علاقہ دور افتادہ ہونے کے باعث فائر بریگیڈ کا عملہ بروقت جائے وقوعہ پر نہ پہنچ سکا۔ اس دوران مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت پانی، مٹی اور دیگر دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی۔ کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ کو پھیلنے سے روک دیا گیا تاہم اس وقت تک گھر کا بیشتر سامان جل کر راکھ بن چکا تھا۔واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم متاثرہ خاندان شدید مالی نقصان سے دوچار ہو گیا ہے۔ اہل علاقہ نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہیں کہ متاثرہ خاندان کی فوری مالی مدد کی جائے اور دور دراز علاقوں میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو اور فائر بریگیڈ سہولیات کو بہتر بنایا جائے۔مقامی عمائدین کا کہنا ہیں کہ اگر بروقت امدادی ادارے پہنچ جاتے تو نقصان کی شدت کو کم کیا جا سکتا تھا۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شانگلہ کے پہاڑی علاقوں میں فائر بریگیڈ کے یونٹس یا ایمرجنسی ریسپانس مراکز قائم کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی صورت میں فوری کارروائی ممکن ہو سکے۔