اسلام آباد (مانند نیوز)دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران کی انٹیلیجنس نے بالواسطہ طور پر امریکا کو پیغام بھیجا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے طریقہ کار پر مذاکرات کے لیے تیار ہو سکتا ہے، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت کسی قسم کی فعال بات چیت جاری نہیں ہے۔

سی این این کے مطابق یہ پیغامات ایک تیسرے ملک کے ذریعے سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی تک پہنچائے گئے، لیکن تاحال اس رابطے کے نتیجے میں جنگ کے خاتمے سے متعلق کوئی سنجیدہ پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اس کے برعکس امریکا اور اسرائیل ایران کے میزائل پروگرام کو کمزور کرنے اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے مشترکہ کارروائی کے زیادہ سخت مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

امریکی وزیرِ دفاع نے بدھ کو بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکا کی کارروائی ابھی صرف شروع ہوئی ہے۔

ایران پر حملوں کے لیے کانگریس سے منظوری لینے کی قرارداد مسترد

ادھر امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیووٹکوف جو جنگ سے قبل ایران کے ساتھ مذاکرات کے 3 ادوار میں شامل تھے، انہوں نے بھی ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے حال ہی میں کوئی رابطہ نہیں کیا۔

دوسری جانب ایران کے نائب وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کو کوئی پیغام نہیں بھیجا، ان کے مطابق اس وقت ایران دفاعی پوزیشن میں ہے اور اس کی توجہ اپنی حفاظت اور دفاع پر مرکوز ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات اس وقت نہیں ہو رہے، تاہم پسِ پردہ رابطوں سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ مستقبل میں جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی راستہ نکلنے کا امکان موجود ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے