پشاور( مانند نیوز) ناظم اسلامی جمعیت طلبہ پشاور کیمپس تقویم الحق نے کہا ہے کہ جامعہ پشاور کی جانب سے جاری حالیہ نوٹیفکیشن میں آن لائن کلاسز کے نفاذ کا فیصلہ طلبہ کے ساتھ سنگین ناانصافی اور تعلیم کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسے فیصلے کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ طلبہ کی ایک بڑی تعداد ایسے علاقوں سے تعلق رکھتی ہے جہاں انٹرنیٹ کی سہولت ناکافی ہے، بجلی کی لوڈشیڈنگ معمول کا حصہ ہے اور بنیادی وسائل بھی دستیاب نہیں ہیں۔ اس صورتحال میں آن لائن کلاسز کا نفاذ طلبہ کو عملی طور پر تعلیم سے دور کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت جامعات کو بند کرنے کے بجائے اپنی ترجیحات درست کرے اور غیر ضروری مراعات میں کمی لائے۔ ماضی میں بھی تعلیم کے شعبے پر خاطر خواہ وسائل خرچ نہیں کیے گئے اور موجودہ حالات میں بھی یہی رویہ برقرار ہے، جبکہ طلبہ اپنی جیب سے فیسیں ادا کر کے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ فیسیں باقاعدہ کلاسز کے لیے دی جاتی ہیں، نہ کہ آن لائن تعلیم کے لیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام آن لائن کلاسز کا فیصلہ فوری طور پر واپس لے کر روایتی کلاسز بحال کریں، بصورتِ دیگر اسلامی جمعیت طلبہ، طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن آواز اٹھائے گی۔