اسلام آباد (مانند نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ کی ذمہ داری اپنے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر ڈال دی۔

امریکی ریاست ٹینیسی میں گزشتہ روز ایک گول میز اجلاس ہوا، جس میں ٹرمپ نے کہا کہ فوجی کارروائی کی حمایت سب سے پہلے پیٹ ہیگستھ نے کی تھی۔

انہوں نے پیٹ ہیگستھ کی موجودگی میں کہا کہ میرا خیال ہے آپ ہی بتائیں کیونکہ آپ نے ہی جنگ کا کہا تھا، آپ انہیں (ایران) جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

یہ بیان ایک ایسی جنگ کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس کے آغاز سے متعلق پہلے ہی متعدد متضاد دعوے سامنے آ چکے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ کو اچانک ایران سے مذاکرات کا خیال کیسے آیا؟

جنگ کیوں شروع ہوئی؟ بدلتا ہوا بیانیہ
ایران کے خلاف جنگ کیوں چھیڑی گئی؟ ٹرمپ انتظامیہ کے مختلف عہدیدار اس سوال پر مختلف جوابات دیتے نظر آتے ہیں۔

کچھ کا مؤقف ہے کہ اسرائیل خود ہی حملہ کرنے والا تھا، جس کے باعث امریکا کی شمولیت ناگزیر ہو گئی، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے قریب تھا۔

ٹرمپ نے اپنے انداز میں اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پیٹ ہیگستھ اور جنرل کین کو فون کیا، میں نے اپنے بہت سے قابل لوگوں سے بات کی، ہمارے سامنے مشرقِ وسطیٰ میں ایک مسئلہ تھا، ہم وہاں جا کر ایک بڑا مسئلہ ختم کر سکتے تھے۔

پیٹ ہیگستھ کو ذمہ دار ٹھہرانے سے چند گھنٹے قبل ہی ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ خلیجی خطے میں ایران کے جوابی حملے غیر متوقع تھے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے