شانگلہ(مانند نیوز)شانگلہ سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے دواہم رہنماؤں شوکت یوسفزئی اورنوازمحمود خان کا سینیٹ الیکشن لڑنے کا اعلان۔دونوں نے پارٹی کے پارلیمانی بورڈکو اپنے درخواستیں جمع کردی۔شوکت یوسفزئی پی ٹی آئی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات جبکہ نوازمحمودپارٹی کے صوبائی نائب صدر کے عہدوں پرتعینات ہیں۔ شوکت یوسفزئی نے اپنے بیان میں کہاہے کہ بورڈ کو درخواست دینا میرا جمہوری حق ہے تا ہم اگر بورڈ نے ان کو سینیٹ ٹکٹ نا بھی دیا تو بھی مجھے بورڈ کا فیصلہ منظور ہوگا اور میں پارٹی اور عمران خان کے ویژن پر قائم رہوں گا۔ انھوں نے 1996 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی ان کا شمار پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخواہ کے ان گنے چنے بانی ارکان میں ہوتا ہے جنہوں نے 1997 میں پارٹی ٹکٹ پر چراغ نشان پر الیکشن بھی لڑا۔ وہ عمران خان کے میڈیا ایڈوائزر اور پھر سیاسی مشیر رہ چکے ہیں۔ 2013 کے انٹرا پارٹی انتخابات میں وہ صوبے کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے، 2013 میں ہی عام انتخابات میں وہ پشاور سے منتخب ہو کر صوبائی وزیر بنے، 2018 میں انھوں نے شانگلہ سے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور انہیں ایک مرتبہ پھر صوبائی وزارت کا قلمدان دیا گیا۔ ان کے مطابق 2024 کے انتخابات میں انہیں فارم 47 کے ذریعے ہرایا گیا۔ وہ پاکستان تحریک انصاف کی ہر تحریک میں شریک رہے ہیں اور میڈیا پر پارٹی کا دفاع اج بھی موثر طریقے سے کر رہے ہیں۔ انھوں نے پارلیمانی بورڈ کو دی گئی درخواست میں واضح کیا ہے کہ بورڈ کو درخواست دینا میرا جمہوری حق ہے تا ہم اگر بورڈ نے ان کو سینیٹ ٹکٹ نا بھی دیا تو بھی مجھے بورڈ کا فیصلہ منظور ہوگا اور میں پارٹی اور عمران خان کے ویژن پر قائم رہوں گا۔پاکستان تحریک انصاف کے دیرینہ اور مخلص رہنما سابق امیدوار قومی اسمبلی اور موجودہ صوبائی نائب صدر نواز خان شانگلہ نے سینیٹ کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔یہ نشست سابق وفاقی وزیر مراد سعید کے استعفے کے بعد خالی ہوئی ہے جس پر مختلف اضلاع سے امیدوار سامنے آ رہے ہیں۔ تاہم شانگلہ سے تعلق رکھنے والے شوکت یوسفزئی کے بعدنوازمحمود کے میدان میں اترنے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہیں۔ ان دونوں رہنماؤں کو پارٹی کے اہم عہدیداروں کی حمایت بھی حاصل ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ حالیہ سینیٹ انتخابات میں ایک بڑا سرپرائز دے سکتے ہیں۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کی کامیابی نہ صرف شانگلہ کے لیے ایک اعزاز ہوگی بلکہ اس سے علاقے میں پاکستان تحریک انصاف مزید مضبوط، فعال اور مستحکم ہو گی۔ اس اقدام کے ذریعے پارٹی ورکرز کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور زیادتیوں کے ازالے کی بھی امید کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف شانگلہ سے ایک ایم این اے دو اراکین صوبائی اسمبلی اور ایک سینیٹر کا تعلق بھی ن لیگ سے ہے جن میں ایک ن لیگ کے صوبائی صدر و وفاقی وزیر امیر مقام اور صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد شامل ہیں ستم ظریفی دیکھیں کہ صوبائی کابینہ میں شانگلہ واحد ضلع ہے جسے اب تک کوئی نمائندگی نہیں دی گئی ایسے میں ملاکنڈ ڈویژن کی خالی کردہ نشست پر شانگلہ کے ان رہنماؤں میں سے ایک کا انتخاب پارٹی میں ایک نئی جان ڈال دے گا اور پارٹی قیادت انہی نکات اور حقائق کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریگی۔۔