اسلامآباد (مانند نیوز)سعودی عرب نے امریکا پر زور دیا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کے محاصرے کا منصوبہ ترک کر دے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے امریکی انتظامیہ پر دباؤ ڈالا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرے اور دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔
عرب حکام کے مطابق ریاض کو خدشہ ہے کہ اگر ایرانی بندرگاہوں کو بند کیا گیا تو تہران جوابی کارروائی کرتے ہوئے دیگر اہم بحری راستوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، یہ اقدام خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: ایران کو روزانہ 435 ملین ڈالرز کا نقصان ہونے کا خدشہ
واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کے ذریعے ایران آنے جانے والی تمام بحری نقل و حمل کو روکنے کا مقصد ایران کی پہلے سے کمزور معیشت پر مزید دباؤ ڈالنا ہے۔
سعودی عرب نے خبردار کیا ہے کہ ایران اس کے جواب میں باب المندب کو بند کر سکتا ہے، جو بحیرۂ احمر میں ایک اہم گزرگاہ ہے اور سعودی عرب کے تیل کی برآمدات کے لیے نہایت اہم حیثیت رکھتی ہے۔