وانا (نمائندہ مانند) خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب کی ہدایت پر خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع کی طرح ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا میں بھی صحافیوں نے احتجاجی مظاہرہ ریکارڈ کیا۔ احتجاج میں ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا کے صدر قسمت اللہ وزیر سمیت صحافیوں، ویڈیو جرنلسٹس اور میڈیا ورکرز نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر صحافیوں کے حقوق کے تحفظ، بقایا تنخواہوں کی ادائیگی ، پیکا ایکٹ اور جبری برطرفیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔اس موقع پر صدر قسمت اللہ وزیر نے خیبرپختونخوا میں مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے کارکن صحافیوں، ویڈیو جرنلسٹس اور دیگر میڈیا ملازمین کی مسلسل برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، جبری استعفوں اور معاشی استحصال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ورکرز کو طویل عرصے سے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، جبکہ کئی صحافی شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔انہوں نے حکومت خیبرپختونخوا سے مطالبہ کیا کہ محکمہ اطلاعات کے سرکاری اشتہارات کو میڈیا اداروں کی جانب سے صحافیوں کی بحالی، بقایا جات کی ادائیگی اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ سے مشروط کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے میڈیا اداروں کو سرکاری اشتہارات جاری نہ کیے جائیں جو کارکن صحافیوں کو تنخواہوں سے محروم رکھتے ہیں یا انہیں جبری طور پر ملازمتوں سے فارغ کر رہے ہیں۔صدر قسمت اللہ وزیر نے مزید مطالبہ کیا کہ جرنلسٹس پروٹیکشن بل پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ خیبرپختونخوا میں صحافیوں کو محفوظ اور آزاد ماحول میسر آ سکے۔ انہوں نے صحافیوں کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمات فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آزادیٔ صحافت پر قدغن لگانے کے لیے کالے قوانین کا استعمال ناقابلِ قبول ہے۔انہوں نے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ آئی ٹی این ای جج کو فوری طور پر خیبرپختونخوا میں تعینات کیا جائے تاکہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو درپیش قانونی مسائل کے حل میں آسانی پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں آئی ٹی این ای جج کی عدم تعیناتی کے باعث متعدد مقدمات التوا کا شکار ہیں، جس سے صحافی برادری شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔انہوں نے عرفان خان سمیت دیگر صحافیوں کو پیکا ایکٹ کے تحت نوٹسز جاری کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو ہراساں کرنے کے لیے قوانین کا غلط استعمال کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔احتجاج کے دوران صحافیوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ میڈیا ورکرز کے حقوق، باعزت روزگار، بقایا تنخواہوں کی ادائیگی اور جبری برطرفیوں کے خاتمے کے لیے متحد ہو کر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ مظاہرین نے کہا کہ میڈیا مالکان کی جانب سے جاری استحصالی رویے اب ناقابلِ برداشت ہو چکے ہیں۔آخر میں صحافیوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات فوری طور پر تسلیم نہ کیے گئے تو خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب کی ہدایت پر احتجاجی تحریک کا دائرہ پورے ملک تک وسیع کیا جائے گا۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے