سخاکوٹ(مانند نیوز) جمعیت اساتذہ پاکستان ضلع ملاکنڈ نے اپنے مطالبات کے لئے احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کر لیا۔سربراہ قاری بصیر الحق، اعجاز الرحمان، محسن خان،سرفراز خان،حسن مختیار اور تحصیل درگئی کے صدر سعید اللہ جان نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آئندہ بجٹ میں مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں اور پنشن میں 100فی صد جبکہ ہاؤس رینٹ، میڈیکل اور کنونس الاؤنس میں موجودہ ریٹس کے مطابق 200فی صد اضافہ کیا جائے۔پنشن کا پرانا طریقہ کار بحال کیا جائے۔ اور پنشن میں 2011اور 2015 کے الاؤنسز بحال کئے جائیں جبکہ تمام ڈی آر اے وفاق کی طرز پر دی جائے۔نیز اساتذہ کے تمام کیڈرز کی اپگریڈیشن موجودہ بجٹ میں کی جائے۔کالج اور سکول اساتذہ کے ایم فل، ایم ایس اور پی ایچ ڈی الاؤنسز کی فوری ادائیگی کی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام سرکاری ملازمین کو سروس کے دوران سالانہ انکریمنٹ کی تمام اسٹیجز مکمل ہونے پر خود کار طور پر اگلے گریڈ میں ترقی دی جائے اور چار درجاتی فارمولے کی اپ ڈیٹ جلد مکمل کی جائے۔تمام کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے اور سی پی فنڈ کو ختم کرکے جی پی فنڈ کو بحال کیا جائے۔انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ تمام اساتذہ کو ٹیکس سے مکمل استثناء دیاجائے اور ایم ایس کو ایم فل کے برابر تسلیم کرکے الاؤنس دیا جائے۔سرکاری سکولوں، کالجوں اور دیگر اداروں کی نجکاری اور آؤٹ سورسنگ فوری طور بند کی جائے۔جمعیت اساتذہ پاکستان کے ذمہ داران نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں اساتذہ اور دیگر ملازمین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔مگر حکومتی سطح پر سنجیدہ اقدامات نہیں کئے جارہے انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے مسائل فوری طور حل کئے جائیں۔انہوں نے واضح کیا کہ اس سلسلے میں 10جون کا احتجاج مکمل طور پرامن، آئینی اور جمہوری ہوگا جس میں صوبہ بھر سے اساتذہ اور تعلیمی ذمہ داران شرکت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کی دعوت دیتی ہے اور ہمارے مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات کراتی ہے تواحتجاج موخر کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے بصورت دیگر 10جون کو پشاور میں پر امن احتجاج کیا جائے گا۔