اسلام آباد (مانند نیوز) سعودی عرب کی جانب سے یمن کے حوثیوں کے زیرِ قبضہ شہر حدیدہ پر فضائی حملوں کے بعد حوثیوں نے خبردار کیا ہے کہ اس کارروائی کے سنگین نتائج نکلیں گے اور تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ حملوں میں حدیدہ کے ٹیلی کمیونیکیشن ادارے کی تنصیبات اور کمران جزیرے کو نشانہ بنایا گیا، کمران جزیرے پر حملے میں 1 خاتون زخمی ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ حدیدہ بندرگاہ کے قریب بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں تاہم سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے بندرگاہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق حدیدہ کی بندرگاہ حوثیوں کے زیرِ انتظام شمالی یمن کے لیے تجارتی اور انسانی امداد کی فراہمی کا اہم مرکز ہے۔
واضح رہے کہ سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی کارروائیوں کو ’غیر ذمے دارانہ اور اشتعال انگیز‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر حوثیوں نے حملے جاری رکھے تو سعودی اتحاد بلا جھجک مزید فوجی کارروائیاں کرے گا۔
اس سے چند روز قبل حوثیوں نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے بحیرۂ احمر میں سعودی تیل بردار جہازوں کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔
حوثیوں کا کہنا تھا کہ یہ جہاز ان کی جانب سے اعلان کردہ بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔
یاد رہے کہ حوثیوں نے 20 جولائی کو سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا جسے انہوں نے صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک ہفتہ قبل ہونے والے حملے کا جواب قرار دیا تھا۔
اس حملے کی ذمے داری سعودی حمایت یافتہ، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ کارروائی ایک ایرانی طیارے کی بغیر اجازت آمد پر کی گئی۔
تازہ حملوں اور جوابی دھمکیوں کے بعد عرب میڈیا کی رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر بحیرۂ احمر میں جہاز رانی متاثر ہوئی تو خطے کی کشیدگی کے ساتھ عالمی تجارت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
بحیرۂ احمر دنیا کی تقریباً 30 فیصد سمندری کنٹینر تجارت کا اہم راستہ ہے جبکہ آبنائے ہرمز پہلے ہی ایرانی اقدامات کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے۔
حوثیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام نے کہا ہے کہ ان کی بحری ناکہ بندی باب المندب کی مکمل بندش نہیں بلکہ صرف سعودی عرب سے متعلق بحری سرگرمیوں تک محدود ہے جسے انہوں نے یمن کے محاصرے کے جواب میں اٹھایا گیا اقدام قرار دیا ہے۔