سری نگر (مانند میڈٰیا) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فورسز نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی مسلسل کارروائیوں کے دوران گزشتہ 9 ماہ میں 26کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کیے گئے اعداد و شمار میں کہا گیا کہ بھارتی فوج، سینٹرل ریزرو پولیس فورس، اسپیشل آپریشنز گروپ اور بدنام زمانہ ایجنسیوں کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی اور اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی نے محاصرے اور تلاشی کی 1ہزار 9سو3کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران 4ہزار 7سو 38شہریوں کو گرفتار کیا، جن میں نوجوان، طلبا، سیاسی کارکن اور خواتین شامل ہیں۔ گرفتار کیے جانے والے بیشتر افراد کے خلاف ”پبلک سیفٹی ایک اور یو اے پی اے“ جیسے کالے قوانین کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔ اس عرصے کے دوران بھارتی فورسز کی طرف سے پرامن نہتے کشمیریوں کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال کے نتیجے میں کم از کم 52 شہری زخمی ہوئے۔نئی دہلی کے مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی سربراہی میں قائم بھارتی انتظامیہ نے نوآبادیاتی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کشمیریوں کی 293 املاک ضبط کر لیں، جن میں رہائشی مکانات، اراضی، دکانیں اور دیگر املاک شامل ہیں۔بھارتی فوجیوں نے گزشتہ ماہ(ستمبر)میں جعلی مقابلوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں پانچ کشمیریوں کو شہید کیا۔ اس عرصے کے دوران بھارتی فورسز اور تحقیقاتی اداروں نے محاصرے اور تلاشی کی 156 کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران 34 شہریوں کو گرفتار کیا۔ گرفتار کیے جانے والوں میں انسانی حقوق کے معروف کشمیری کارکن محمد احسن اونتو بھی شامل ہیں۔ پچھے ماہ 19کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کی گئیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 5 اگست 2019 کو مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے نوجوانوں اور کئی خواتین سمیت 1ہزار 74 سے زائد کشمیری شہید، 2ہزار 7سو 8 سے زائد زخمی اور 37ہزار 8سو 17 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔کشمیر کے امور پر نظر رکھنے والوں اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جائیدادوں کی غیر قانونی ضبطی اور مسماری، بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد کشمیریوں کو معاشی طور پر کمزور کرنا، سیاسی اختلافِ رائے پر سزا دینا اور مقبوضہ علاقے میں جاری تحریکِ آزادی کو دبانا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز اہلکاروں کی جانب سے مسلسل ہلاکتوں کا مقصد کشمیریوں میں خوف و ہراس پھیلانا ہے، لیکن ایسے اقدامات کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو کمزور کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، سید شاہد شاہ، ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم، مشتاق الاسلام، ڈاکٹر حمید فیاض، بلال صدیقی، مولوی بشیر عرفانی، فیاض حسین جعفری، ظفر اکبر بٹ، نور محمد فیاض، شوکت حکیم، ایڈووکیٹ زاہد علی، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، رفیق احمد گنائی، فاروق احمد توحیدی،غلام محمد خان سوپوری، سلیم ننہ جی، محمد یاسین بٹ، عمر عادل ڈار، سراج زرگر، داؤد زرگر، ظہور احمد بٹ، حیات احمد بٹ، انسانی حقوق کے کارکن محمد احسن اونتو اور دیگر کو غیر قانونی قید کے معاملے میں بدترین سیاسی انتقام کا سامنا ہے۔ یہ لوگ کئی سالوں سے جھوٹے الزامات کے تحت جیلوں میں بند ہیں۔