پشاور (مانند نیوز) ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان صاحبزادہ وسیم حیدر نے کہا ہے کہ وفاقی ہو یا صوبائی حکومت دونوں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ یہ حکومتیں عوام کو گمراہ کرنے اور نوجوانوں کو مایوس کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکیں۔ نوجوانوں کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے خود میدان میں نکلنا ہوگا اور اپنا حق چھیننا ہوگا۔اسلامی جمعیت طلبہ ہر کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر نوجوانوں کو متحرک کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چارسدہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ناظم صوبہ خیبر پختونخوا اسفندیار عزت، ناظم چارسدہ حضرت علی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ناظمِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت عوام کی حقیقی نمائندہ نہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے نجات حاصل کرکے ایسی حکومت کا قیام ضروری ہے جو حقیقی معنوں میں عوام اور نوجوانوں کی نمائندگی کرے۔ ناظمِ اعلیٰ نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 47لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ طلبہ کو مفت درسی کتب کی فراہمی بھی یقینی نہیں بنائی جا رہی۔ پنجاب کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی تعلیمی اداروں کی نجکاری کی جا رہی ہے، جو تعلیم کے بنیادی حق اور عوامی مفاد کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے نوجوانوں کے نام پر ووٹ حاصل کیا، لیکن گزشتہ 13 سالہ کارکردگی میں نوجوانوں کے لیے کوئی مؤثر اور قابلِ ذکر اقدام سامنے نہیں آیا۔ مایوس نوجوانوں کو متحرک اور منظم کرکے ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کریں گے اور پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی حکومت عوام کے جان و مال کا تحفظ اور بنیادی حقِ تعلیم فراہم نہیں کر سکتی تو پھر عوام سے ٹیکس کس بنیاد پر وصول کیا جا رہا ہے؟ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کو بنیادی سہولیات اور تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے۔ عوام اپنے جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوام کے جان و مال کا تحفظ اور نوجوانوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی ہے، جس میں موجودہ حکومتیں بری طرح ناکام ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ پشاور شدید مالی بحران کا شکار ہے، جس کے باعث تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور جامعہ ترقی کی راہ پر آگے نہیں بڑھ پا رہی۔ جامعہ پشاور میں آئے روز احتجاج ہو رہے ہیں، جو انتظامی اور مالی مسائل کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔ناظمِ اعلیٰ نے 14 اگست کے موقع پر سول ایوارڈز کی تقسیم سے متعلق صحافی کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کی 64 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، لیکن ایوارڈز کی فہرست میں نوجوانوں کی حقیقی خدمات اور قربانیوں کا کوئی خاطر خواہ اعتراف نظر نہیں آیا۔ حکمران اور وزراء مراعات اور اعزازات کی بندربانٹ میں مصروف ہیں، جبکہ جن افراد نے حقیقی معنوں میں ملک و قوم کے لیے خدمات انجام دیں اور قربانیاں دیں، انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ قبل ازیں ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان نے چارسدہ میں سیرت النبی ﷺ کیمپ کا دورہ کیا اور کیمپ میں جاری انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے زیرِ اہتمام ملک بھر میں گرینڈ سیرت النبی ﷺ ٹیسٹ کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد طلبہ و طالبات کو نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس اور آپ ﷺ کی عملی زندگی سے روشناس کرانا ہے۔ گرینڈ سیرت النبی ﷺ ٹیسٹ کے لیے رجسٹریشن کا مرحلہ جاری ہے، جبکہ ٹیسٹ کا آغاز 7 ستمبر سے ہوگا۔ ملک کے 12 بڑے شہروں میں ٹیسٹ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ ٹیسٹ میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات میں مجموعی طور پر 20 لاکھ روپے کے انعامات تقسیم کیے جائیں گے۔