اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ میرے اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانا اپوزیشن کا حق ہے، مجھے کوئی وزیر فوٹیج میں ہلڑ بازی کرتا نظر نہیں آیا،کچھ اراکین پر ایوان میں داخلے پر پابندی لگائی تو اس پر بھی اعتراض کیا گیا۔پارلیمنٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں رونما ہونے والے واقعات قابلِ افسوس ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ واقعات جمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں، کوشش ہے کہ قواعد کے مطابق اجلاس چلے، اختلافِ رائے کا حق ہر ایک کو حاصل ہے، اپوزیشن اور حکومت کو میز پر بٹھانے کے لیے کوشاں ہوں، فریقین پارلیمنٹ کے تقدس کا خیال رکھیں۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں بہتری اور خرابی کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے، ارکان کے خلاف جو کارروائی کی اس پر بھی اعتراض کیا گیا، میرے پاس صرف اخلاقی طاقت ہے، کسی کو اٹھا کر پھینکنے کا اختیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ میری ذمے داری ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کو ایوان میں برابر کا موقع دوں، ایوان میں حکومت اور اپوزیشن سب کو بولنے کا موقع دیتا بھی ہوں، میں نے ان چیزوں پر ایکشن لیا جب میں خود اجلاس چلا رہا تھا، میں نے وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کی، جس کے بعد میں نے شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری سے بھی بات کی، میں اس وقت بھی اپوزیشن رہنماؤں سے رابطے میں ہوں، میں چاہتا ہوں کہ سب لوگ مل کر رولز کے ساتھ ایوان کو چلائیں۔انہوں نے کہا کہ میرا استعفیٰ اپوزیشن کی خواہش ہے، جبکہ ایوان نے مجھے ہاؤس چلانے کا مینڈیٹ دیا ہے، میں اپنے مینڈیٹ کے مطابق اپنا کام کرتا رہوں گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو زیادہ سے زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے، جو کچھ ایوان میں ہوا جمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں ہے، حکومت اور اپوزیشن سے کہتا ہوں کہ شائستگی سے بات کریں، ارکانِ قومی اسمبلی پارلیمنٹ کا تقدس پامال نہ کریں۔اس موقع پر ایک صحافی نے سپیکر اسد قیصر سے سوال کیا کہ آپ نے وزرا کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا؟اسد قیصر نے جواب دیا کہ جو لوگ مجھے فوٹیج میں نظر آئے ان کے خلاف ایکشن لیا، مجھے کوئی وزیر فوٹیج میں ہلڑ بازی کرتا نظر نہیں آیا، وزیر اعظم نے وزرا کے خلاف ایکشن سے نہیں روکا۔کچھ اراکین پر ایوان میں داخلے پر پابندی لگائی تو اس پر بھی اعتراض کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جو ایکشن لیا وہ اس وقت تک لیا جب تک میں اجلاس چلتا رہا۔انہوں نے کہا کہ بجٹ اجلاس میں سب کو دلیل سے بات کرنی چاہیے اور فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ بجٹ کیسا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانا اپوزیشن کا حق ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے