الپوری (مانند نیوز ڈیسک) شانگلہ ڈسٹرکٹ ریزالوشن کونسل کے چیئرمین بحرالدین خان نے کہا ہے کہ گزشتہ سال میں کرونا وباء کے باوجود کل113مقدمات ڈی آر سی ممبران ضلع شانگلہ نے حل کی ہیں۔ڈی آر سی شانگلہ کی کاروائی سے عوام نہایت خوش ہیں کیونکہ ڈی آر سی ایک ایسا ادارہ ہے جسمیں نہ کسی وکیل کی ضرورت ہوتی ہے نہ کسی سفارش کی بلکہ مظلوم شخص اپنی شکایات اپنی شکایات ایک سفید کاغذ پر تحریر کرکے ڈسٹرکٹ ریزالوشن کونسل کو پیش کرتا ہے ڈی آر سی نے اکثر مقدمات میں تصیفہ کرتے ہیں اور مقدمات خوش اسلوبی سے حل کرتے ہے اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ زمین یا پانی تنازعہ و دیگر معاملات حل نہ ہونے کی صورت میں علاقہ میں خون خرابا ہوتا ہے اس سلسلے میں ڈی آر سی کی کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ڈی آر سی کے کوششوں کیوجہ سے بڑے بڑے مقدمات حل ہوسکتے ہیں عوام ڈی آر سی کیرف آنا پسند کرتے ہیں ڈی آر سی شانگلہ کی کارکردگی نہایت قابل تعریف ہے اور اس سلسلے میں ڈی پی او شانگلہ رحیم شاہ خان کی طرف سے ڈسٹرکٹ ریزالوشن کونسل کو ہرممکن تعاؤن حاصل ہیں،ڈی پی او شانگلہ وقتً فوقتً ڈی آر سی کیساتھ رابطے میں ہے۔ ڈسٹرکٹ ریزالوشن کونسل ممبران نے ڈی پی او شانگلہ کا شکریہ ادا کیا۔ڈی آر سی شانگلہ ضلع کے سطح پر الپوری میں قائم ہے اور ایک ڈی آر سے سب ڈویژن کے سطح پر پورن اور بشام میں قائم ہیں۔شانگلہ میں دیگر سب ڈویژن بھی قائم ہورہے ہیں اور جلدازجلد ان بھی میں ڈی آر سی قائم کیاجائے گا۔ ڈسٹرکٹ ریزالوشن کونسل کے قیام سے پولیس کرائم میں تیس فیصد تک کمی آئی ہے اور عدالتوں میں کیسسز کم ہوئے ہیں جو ڈی آر سی کی بہترین کارکردگی کا نتیجہ ہے۔