نیویارک (مانند نیوز ڈیسک) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ عالمی برادری کو افغانستان سے لاتعلق نہیں ہونا چاہیئے بصورت دیگر وہاں انسانی بحران جنم لے سکتا ہے، افغانستان کے منجمد اثاثوں کو افغانوں کیلئے کھولنا بہتر ہوگا،پاکستان نے افغانستان سے مختلف ممالک کے شہریوں اور سفارتی عملے کے انخلا میں معاونت کی، وعدوں کی پاسداری طالبان کے بہتر مفاد میں ہے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلا س کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور  اقوام متحدہ کی قیادت سے ملاقاتوں میں  کشمیر کے حوالہ سے اپنانقطہ نظر پیش کریں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیویارک پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76ویں اجلاس میں شرکت کے لئے پانچ روزہ دورے پر نیویارک پہنچ گئے۔ جان ایف کینیڈی ہوائی اڈے پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم، امریکہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر  اسد مجید خان اور پاکستانی سفارت خانے کے اعلی حکام نے وزیر خارجہ کا خیر مقدم کیا۔ وزیر اعظم عمران خان اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 76ویں اجلاس سے ویڈیو خطاب کریں گے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نیویارک میں قیام کے دوران اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے چھہترویں اجلاس میں شرکت کیلئے تشریف لائے ہوئے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔وزیر خارجہ اقوام متحدہ کی قیادت سے ملیں گے۔وزیر خارجہ کونسل آن فارن ریلیشنز کی جانب سے منعقدہ تقریب میں خصوصی اظہار خیال کریں گے۔وزیر اعظم عمران خان کے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے چھہترویں اجلاس سے پالیسی خطاب اور وزیر خارجہ کے دورہ  نیویارک سے پاکستان کی عالمی شراکت داروں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ سفارتی روابط کے فروغ کی عکاسی ہوتی ہے۔جبکہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے  نیویارک میں "پاکستان ہاؤس”کا دورہ کیا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم اور سفارتی عملے نے وزیر خارجہ کا خیر مقدم کیا۔ وزیر خارجہ نے "وزٹرز بک”میں اپنے تاثرات قلمبند کیے۔نیویارک پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کشمیر کے حوالہ سے ہمارا نقطہ نظر ہے اس کو پیش کریں گے، 12ستمبر کو ہم نے نیا ڈوسیئر پیش کیا ہے جس میں ہم نے وہ سارے شواہد جمع کرکے دنیا کے سامنے رکھے ہیں جو اس وقت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں، ٹھوس شواہد کے ساتھ ہم دنیا کے سامنے رکھ رہے ہیں، وہ لوگ جو انسانی حقوق کے علمبردار بنتے ہیں ان کا اپناعمل کیا ہے، جو جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ان کے عملی اقدامات کیسے ہیں تاکہ دنیا جائز ہ لے سکے اور نہتے شہریوں پر جو ظلم ہو رہا ہے اس پر ان کا جو رویہ ہے اس رویے پر نظر ثانی کریں۔  وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کاوشوں میں شراکت داری کا خواہاں ہے،وزیر اعظم عمران خان نے منصب سنبھالنے کے بعد بھارت کو دعوت دی کہ اگر وہ ایک قدم امن کی جانب بڑھائیں گے تو ہم دو بڑھائیں گے لیکن بھارت نے اس پیشکش کو قبول کرنے کی بجائے مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 کے یک طرفہ اور غیر آئینی اقدامات کئے جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا، ہم امن کے خواہاں ہیں آج بھی بھارت کے پاس آپشن موجود ہے اگر وہ خطے میں قیام امن کا خواہاں ہے تو کشمیریوں پر جاری مظالم کو بند کرے اور 5 اگست جیسے غیر آئینی اقدامات کو واپس لے۔ ان کا کہنا تھا کہ 90کی دہائی میں افغانستان کو تنہا چھوڑ دیا گیا تھا اور پاکستان کا مؤقف یہی رہا ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا چاہیئے اور انہیں دہرانا نہیں چاہیئے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان سے غیر ملکی شہریوں کے انخلاء میں اپنا پورا کردار ادا کیا اور دنیا نے اس کو سراہا ہے اور اس کی تعریف کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایسا انسانی بنیادوں پر کیا اور یہ ہم کرتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو افغانستان سے لاتعلق نہیں ہونا چاہیئے اور جو انسانی بحران وہاں بن سکتا ہے یا اس کا عنوان دکھائی دے رہا ہے اس کو روکنے میں عالمی برادری کو اپنا کرداراداکرنا چاہیئے۔ عالمی برادری کو انگیجمنٹ کی پالیسی کو اپنا چاہیئے اور انگیجمنٹ سے وہ اپنے زیادہ مقاصد حاصل کرسکیں گے بلکہ ڈس انگیجمنٹ کے نقصانات زیادہ ہیں۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھاکہ افغانستان میں بظاہر امن وامان کی صورتحال قابو دکھائی دے رہی ہے لیکن وہاں سے انخلاء کی وجوہات اور ہوسکتی ہیں، فرض کریں وہاں خوراک کی قلت ہوجائے، فرض کریں وہاں کوروناوائرس کے پھیلاؤ میں یکدم اضافہ ہو جائے تو وہ بھی انخلاء کا باعث بن سکتا ہے۔ اس وقت تک زیادہ انخلاء نہیں ہے جو ہم سمجھ رہے تھے کہ بڑے پیمانے پر لوگ نقل مقانی کریں گے، خداکا کرم ہے ایسا نہیں ہوا لیکن اگر کوئی وہاں انسانی بحران جنم لیتا ہے تو اس کو خارج ازمکان قرارنہیں دیا جاسکتا، اس لئے آج وقت ہے کہ ایسے اقدامات لئے جائیں اور وہاں ایسی سہولتیں باہم پہنچائی جائیں کہ وہ نوبت نہ آئے۔شاہ محمود قریشی نے عالمی طاقتوں سے افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف آپ بحران کو روکنے کے لیے نئے سرے سے فنڈز جمع کر رہے ہیں اور دوسری جانب ان کے جو اثاثے ہیں وہ انہیں استعمال نہیں کر سکتے، اثاثے منجمد کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ میں عالمی طاقتیں اپنی پالیسی کا ایک بار پھر جائزہ لیں اور اثاثے غیر منجمد کرنے کے بارے میں سوچیں، افغانستان کے منجمد اثاثوں کی بحالی اعتماد سازی کیلئے اہم اقدام ہو سکتا ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے