سخاکوٹ (مانند نیوز ڈیسک) ضلع و تحصیل انتظامیہ اور تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن درگئی کے زیر اہتمام سخاکوٹ پڑنگے میں کھلی کچہری منعقد کی گئی جس کے مہمانان خصوصی ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ الطاف احمد شیخ، اسسٹنٹ کمشنر درگئی فواد خان خٹک اورایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر وحید اللہ خان تھے۔کھلی کچہری میں صوبیدا ر میجر ملاکنڈ لیوز سمیع باچہ، تحصیل میونسپل آفیسر نور الامین، ریسکیو 1122کے چیف عارف خٹک، پوسٹ کمانڈر تھانہ سخاکوٹ عبد الوہاب سمیت سرکاری محکموں کے ضلعی حکام اور اہلکار بھی موجود تھے۔ کھلی کچہری کے دوران عوام نے منشیات فروشی میں اضافے سمیت دیگر مسائل کے انبار لگادئیے۔شرکاء نے کہا کہ پڑنگے حافظ آباد اور ملحقہ علاقوں میں صفائی کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے ایریگیشن نالیاں بند پڑے ہیں اور ہزاروں جریب آراضی کو مناسب پانی نہیں مل رہا ہے۔شرکاء نے کہا کہ بجلی ٹرانسفارمر ٹھیک کرنے کے لئے منتخب ممبران کے گھروں کے طواف کرتے ہیں جبکہ شکایات پر محکمہ واپڈا درگئی نے آنکھیں بند کئے ہیں۔گورنمنٹ ہائی سکول پڑنگے کی عمارت بوسیدہ ہو چکی ہے جو کسی بھی وقت منہدم ہو کر طلباء کی قیمتی جانیں لے سکتی ہے۔پڑنگے میں منعقدہ کھلی کچہری کے موقع پر سحاب ویلفیئر آرگنائزیشن کے سرپرست اعلیٰ ضمیر باچہ، صدر عالم محمد اور حمید الرحمان نے کہا کہ علاقے میں صحت سہولیات کی عدم فراہمی سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اس لئے علاقہ پڑنگے میں ڈسپنسری اور فری میڈیکل کیمپ کابندوبست کیا جائے۔علاقہ پڑنگے اور نواحی علاقوں میں ایریگیشن کی ناقہ بندی ٹھیک طرح نہیں ہوئی ہے جبکہ زمینداروں نے آبپاشی کے نالیوں کو بند کرکے دیواریں بنائیں ہیں جس کی وجہ سے کھیتوں کو مطلوبہ پانی نہیں پہنچ رہا ہے۔سابق ناظم ویلج کونسل سخاکوٹ بازار ساجد حسین مشوانی،النور ایجوکیشن سسٹم کے ایم ڈی طارق انور، ساجد انور، عمران خان،سوشل ورکر بلال جان، محمد واسع، فیاض خان، حافظ رحمت زادہ اور دیگر شرکاء نے درپیش مسائل پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ گورنمنٹ ہائی سکول پڑنگے ڈمانو خٹ کی عمارت بوسیدہ ہو کر طلباء اور آساتذہ کے سروں پر موت کی طرح کھڑی ہے۔طلباء اور بچوں کے لئے کھیل کود کا کوئی میدان نہیں ہے اور مسائل کے حل کے لئے منتخب ممبران سے بھی رابطے کئے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ علاقہ پڑنگے حافظ آباد میں ہائی سکولز سمیت متعدد سرکاری و پرائیویٹ سکولز ہیں لیکن اس کے باوجود یہاں صفائی کا کوئی انتظام موجود نہیں ہے اور صفائی کی ناقص صورتحال کی وجہ سے علاقے میں جوہڑ بن گئے ہیں جس کی وجہ سے بچے مہلک بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔محمد واسع نے زمینداروں کو درپیش مسائل پر تفصیلی بحث کی۔ اس موقع پر سحاب ویلفیئر فاؤنڈیشن کے صدر عالم محمد اور حافظ رحمت زادہ نے کہا کہ علاقے کے کم عمر بچے آئیس، ہیروئن،چرس اور شراب جیسے لعنت میں مبتلا ہوچکے ہیں اور علاقے میں بڑھتے ہوئے منشیات فروشی کی وجہ سے نوجوان نسل تباہی کے دھانے پر پہنچ گئے ہیں۔اس دوران کھلی کچہری کے شرکاء نے کرونا کی وجہ سے وفات ہونے والے خرکی ڈھیرئی ڈسپنسری کے ڈاکٹرجہانگیر شاہ کی پوسٹ پر ان کے گھرانے سے فرد بھرتی کرنے،بجلی ٹرانسفار مر فراہم کرنے، سکول ٹائم میں لیویز گشت کرانے، صفائی کے لئے ڈرمز فراہمی اور سوئی گیس کنکشن دینے کیساتھ ساتھ سخاکوٹ میں ریسکیو 1122سنٹر قائم پولیس کلیئرنس سرٹیفیکیٹ میں عوام کو سہولت دینے کے مطالبات کئے۔ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ الطاف احمد شیخ اور اسسٹنٹ کمشنر فواد خٹک نے کہا کہ کھلی کچہریوں کا مقصد عوام کے مسائل سُننا اورمسائل ان کے دہلیز پر حل کرنا ہے۔ اس دوران ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ نے متعدد مسائل کے موقع پر حل کرنے کے ہدایات جاری کئے۔انہوں نے کہا کہ عوام کے مسائل حل کر ناہماری اولین ترجیح اور ذمہ داری ہے جس میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کرینگے اور غفلت کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی جائیگی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ کوڈ 19ویکسین اور ماسک کا استعمال ضرور کریں تاکہ موذی وباء سے بچا جاسکے۔