اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے چائلڈ پورنوگرافی کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ چائلڈپورنوگرافی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلانے والے ملزم ضمانت کے مستحق نہیں۔ ہفتہ کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چائلڈ پورنوگرافی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلانے کے کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے عمر خان نامی ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو کیس کا جلد فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔دوران سماعت اعلیٰ عدلیہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چائلڈ پورنوگرافی بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی بڑی وجہ ہے۔ چائلڈ پورنوگرافی معاشرے کا بڑا ناسور اور تباہی کا باعث بنتی جا رہی ہے بچوں کے مستقبل اور اخلاقیات کے لیے چائلڈ پورنوگرافی سنگین خطرہ ہے، لہذا چائلڈ پورنوگرافی کے بڑھتے خطرے کیساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا۔عدالت نے مزید کہا کہ چائلڈ پورنوگرافی ویڈیوز پھیلانا معاشرے کو کھوکھلا کرنے کا جرم ہے، ملزم کے وکیل کی یہ دلیل قابل قبول نہیں کہ کوئی متاثرہ فریق سامنے نہیں آیا، ملزم عمر خان پر کیس بچوں کی گندی ویڈیو پھیلانے کا ہے بنانے کا نہیں۔ ملزم عمر خان کی شکایت براہ راست فیس بک انتظامیہ کی جانب سے کی گئی تھی۔واضح رہے کہ ملزم عمر خان کے خلاف ایف آئی اے ایبٹ آباد نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے