الپوری(مانند نیوز ڈیسک)شانگلہ موتہ خان فیض آباد سلائیڈنگ،ملبے دبے بچے راحیل کی لاش ندی سے ریکور ہونے کے بعد جان بحق ہونے والوں کی تعداد 6ہوگئی۔واقع میں 4افراد زخمی ہوئے تھے،6روز بعد الپوری مین شاہراہ ٹریفک کیلئے مکمل طور پر بحال ہوگئی۔انتظامیہ اور لواحقین کے درمیان 6نکات پر مشتمل معاہدے طے پاگیا۔سینٹ میں متاثرین کی آواز اٹھانے پر مختلف حلقوں کی جانب سے سنیٹر مشتاق احمد خان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔6دن مسلسل کاوشوں پر ریسکیو،انتظامیہ اور پولیس سمیت سول سوسائٹی کی بھرپور کاوشوں پر عوام کا انھیں بھی بھرپور سراہا۔سوشل میڈیا پر سلائیڈنگ کے ملبے پھنسے بچوں اور دیگر افراد کو نکالنے پر ان کو ہیروز قرار ردیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو کی دن رات محنت کیوجہ سے اپریشن کامیاب ہوا۔شانگلہ کے ضلعی ہیڈکوارٹر الپوری سے ایک کلومیٹر نیچے موتہ خان فیض آباد میں 21جنوری کے سہ پہر لینڈسلائیڈنگ سے خورشید علی خان نامی شخص کا تین منزلہ گھر اور تیسری چھت پر موجودہ آرہ مشین سلائیڈنگ سے مکمل طور پر زمین بوس ہوکر دریا میں جاگرا جس کے نتیجے میں گھر میں موجود تین خواتین سمیت ایک بچے کو زخمی حلات میں بروقت بچایا گیا جبکہ دیگر کی لاشیں مختلف دنوں میں ملتی رہی جن میں گھر کے سرپرست خورشید علی خان کے ساتھ بیٹھا عبدالکلام،نواسا راحیل اور تین دیگر بچے جان بحق ہوئے جن میں سے بدھ کی شام راحیل نامی بچے کی لاش ندی سے چھ دن بعد نکالی گئی اور اسی کے ساتھ چھ دن سے جاری دن رات ریسکیو اپریشن مکمل ہوا جبکہ سلائیڈ کی وجہ سے بند مین شاہراہ ٹریفک کیلئے کھول دی گئی۔لواحقین اور انتظامیہ کے رمیان 6نکاتی معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے بعد جرگے نے سڑک کھولنے کی اجازت دی۔