پاراچنار (مانند نیوز ڈیسک) پشاور خودکش دھماکہ کے شہداء کی یاد میں مدرسہ رہبر معظم پاراچنار میں ایک عظیم الشان اجتماع کا انعقاد ہوا، جس میں ضلع کرم کے علماء عمائدین سمیت ہزاروں افراد نیشرکت کی۔ اس دوران شہداء کے ایصال ثواب کیلئے قرآنخوانی ہوئی۔ جس کے بعد اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سابق سینیٹر علامہ سید عابد حسین الحسینی، علامہ سید سبطین الحسینی، تحریک حسینی کے نومنتخب صدر علامہ سید تجمل حسینی، سید نبی حسین الحسینی،انجمن حسینیہ کے رکن علی جواد طوری اور محمد تقی نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ نااہل حکمرانوں کی ناکام پالیسی نے ملک کو جنگل بنارکھا ہے جس میں عوام غیر محفوظ جبکہ دہشت گرد آزاد پھیر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور انسانیت کے دشمن اوران کیسرپرست سن لیں کہ وہ ظلم کی تمام حدیں بیشک پار کریں لیکن ہمارے پایہ استقلال میں کوئی لغزش نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ درجنوں نمازیوں کی شہادت کے باوجود اسی شام کو اسی مسجد میں شہداء کی لہو اور بارود کی خوشبو میں نماز مغربین باجماعت ادا ہوئی، جوکہ موت کے ان سوداگروں کے منہ پر طمانچہ ہے۔مقررین نے کہا کہ وہ شہادت کو اعزاز سمجھتے ہیں۔ انکے معصوم بچے بھی دلوں میں شہادت کی آرزو پالتے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ مری میں جان بحق ہونے والوں کو حکومت نیپچاس پچاس لاکھ روپے دیئے جبکہ خانہ خدا میں دوران عبادت ہونے والے شہداء کو یکسر نظر انداز کیا جارہاہے۔انہوں نے کہا کہ ہم شہیدوں کا سودا نہیں کرتے مگر دستور کے مطابق ہم یہ حق رکھتے ہیں کہ شہداء کے وارثین کو بھی شہید پیکچ ملے انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیا جائے اوردہشت گردوں کیلئے نرم گوشہ نہ رکھا جائے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ دہشتگردوں کو مقابلے ہلاک کرنے کی خبروں انہیں تشویش ہے۔ اور یہ کہ دہشتگردوں کو ہلاک کرنے کے بجائے اصل محرکین اور سرغنوں کو بے نقاب کیا جائے