مردان (نمائندہ مانند) مردان میڈیکل کمپلکس ہسپتال کے گائنی وارڈ عملے اور لیڈی ڈاکٹر کے مبینہ غفلت کے باعث حاملہ خاتون کی بچی ماں کے پیٹ میں فوت ہو گئی،ڈلیوری میں وقت، مناسب دیکھ بھال نہ کرنے اور علاج کی بجائے گھررخصت کرنے والے حاملہ خاتون کی نجی کلینک میں مردہ حالت میں بچی کی پیدائش ہوئی، خاتون کے شوہر اور دیور کا اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ، تفصیلات کے مطابق مسلم آباد کنال روڈ کے رہائشی زوالفقارخان ولد شمشیر نے مردن پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے 27 مئی کواپنی حاملہ بیوی کو ڈلیوری کے لئے ایم ایم سی ہسپتال لے گیا تھا لیکن وہاں پر موجود ہسپتال عملے اور ڈیوٹی پر معمور لیڈی ڈاکٹرکے بنا چیک اپ کے گھر رخصت کیاگھر لانے کے دو دن بعد خاتون کو دوبارہ تکلیف شروع ہوئی تو دوبارہ ایم ایم سی ہسپتال لائی گئی لیکن وہاں ڈیوٹی پر موجود لیڈی ڈاکٹر نے انتہائی نا مناسب رویہ اختیار کرتے ہوئے انتہائی غصے کی حالت میں کہا کہ ڈلیوری میں ابھی وقت ہے اور میڈیسن تجویز کرتے ہوئے گھر رخصت کیا ہم نے مریض کو ڈی ایچ کیو ہسپتال لے گیا مگر وہاں پر بھی لیڈی ڈاکٹرز نے ایم ایم سی سپتال کی تجویز کردہ دوائی کھانے کا کہہ کر رخصت کیا لیکن اسی دن ہم مریض کو قریبی نجی کلینک لے گئی وہاں پر بچی مردہ حالت میں پیدا ہوئی، ایم ایم سی ہسپتال کے لیڈی ڈاکٹرز کے نامناسب رویے اور غفلت کے باعث ہمارا بچہ مردہ حالت میں پیدا ہوا۔ ہم وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، وزیر صحت اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ غفلت کے مرتکب عملے کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے اور ہمیں انصاف دلائی جائے۔