جنوبی وزیرستان (مانند نیوز) جنوبی وزیرستان سب ڈویژن لدھا تحصیل مکین میں سنکڑوں آفراد نے مکین کیٹیگری ڈی ہسپتال پر فنڈز نہ ہونے کے باعث جاری تعمیراتی کام بند ہونے کے خلاف آحتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرے سے ٹریڈ یونین کے رہنما ملک ریاض محسود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مکین ہسپتال پر 2002 میں تعمیراتی کام شروع ہوا تھا لیکن 21 سال کا عرصہ گزر نے کے باوجود ہسپتال پر کام مکمل نہیں ہو سکا، ان کا کہنا تھا کہ تحصیل مکین کی آبادی ایک لاکھ پچاس ہزار سے زیادہ نفوس پر مشتمل ہے لیکن ان کو صحت کے حوالے سے شدید مسائل کا سامنا ہے، ان کا کہنا تھا کہ پورے اپر وزیرستان کے ہسپتالوں میں پوسٹ مارٹم کرنے کی سہولت میسر نہیں جس کے باعث جب بھی کوئی حادثہ یا واقعہ رونما ہو جاتا ہے تو میتوں کو پوسٹ مارٹم کیلئے 150 کلومیٹر دور ضلع لوئر وزیرستان کے ہیڈکوارٹر ہسپتال وانا لے جانا پڑتا ہے اور پولیس حکام ٹرانسپورٹیشن کے مد میں ان پر آنے والے اخراجات انکے لواحقین سے وصول کرتے ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ کہ اعلی حکومتی حکام مکین ہسپتال کو چالو کرنے کیلئے ہنگامی طور پر اقدامات آٹھانے سمیت، متاثرہ گھروں کی سروے رقوم اور علاقے میں 4g نیٹ ورک فوری طور پر بحال کرے تاکہ علاقے کے عوام کو درپیش مسائل کا خاتمہ ہوسکے، ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے جائز مطالبات کو تسلیم نہیں کیا گیا تو آنے والے عام انتخابات کی بائیکاٹ سمیت علاقے کے تمام شاہراہیں کو ٹریفک کی آمد و رفت کیلئے بند کردینگے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔