پشاور(مانند نیوز) میں وزیرِ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور کے مبینہ اغواء کا مقدمہ تھانہ چمکنی میں درج کر لیا گیا۔

پولیس کے مطابق مقدمہ صوبائی وزیر فضل شکور کے بھائی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، ایف آئی آر میں نامعلوم مسلح افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی وزیر اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے، ان کے ہمراہ ڈرائیور اور پولیس کانسٹیبل بھی موجود تھے۔ یہ بھی پڑھیے

ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ موٹر وے ٹول پلازا کے قریب مسلح افراد نے صوبائی وزیر، ڈرائیور اور کانسٹیبل کو گاڑی سے اتارا، سرکاری گاڑی کے ٹائروں پر فائرنگ بھی کی۔

ایف آئی آر میں بتایا ہے کہ مسلح افراد صوبائی وزیر، ان کےڈرائیور اور کانسٹیبل کو اسلحے سمیت نامعلوم مقام پر لے گئے، جبکہ سرکاری گاڑی ٹول پلازا کے قریب کھڑی ملی۔

اس حوالے سے اسپیکر کے پی اسمبلی بابر سلیم سواتی نے آئی جی خیبر پختون خوا پر مس کنڈکٹ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مسلح نقاب پوشوں نے پولیس کی موجودگی میں صوبائی وزیر کو اٹھایا۔

دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ سادہ کپڑوں میں جب بھی کوئی کسی کو اٹھائے گا تو ردِعمل تو آئے گا، فضل شکور پر حملے کی ویڈیو موجود ہے، گورنر راج لگانا ہے تو لگا دیں۔

واضح رہے کہ صوبائی وزیر کے مبینہ اغواء کا واقعہ گزشتہ روز موٹر وے ٹول پلازا کےقریب پیش آیا تھا۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے