شانگلہ (مانند میڈیا)درہ آدم خیل کے علاقے بوڑہ حسن خیل میں کوئلے کی کان کا ایک حصہ اچانک بیٹھ جانے سے شانگلہ کے 3 کان کن جان بحق ہوگئے۔ جان بحق افراد میں انزر گل ولد وزیر جان اور حفیظ خان ولد زوبیر سکنہ گڈوسر پیرآباد جبکہ حفیظ ولد غفور سکنہ پاگوڑی پیرآباد شامل ہیں۔ تینوں کان کن کان میں کام کررہے تھے کہ ملبے تلے دب گئے۔ لاشیں آبائی علاقوں میں پہنچا کر سپرد خاک کردی گئیں۔شانگلہ سے تعلق رکھنے والے کان کنوں کے ساتھ حادثات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے کالا خیل اور درہ آدم خیل کے مختلف حادثات میں بھی شانگلہ کے 2 نوجوان کان کن جاں بحق ہوئے تھے جبکہ گزشتہ ماہ درہ آدم خیل میں ایک ہی کان میں پہاڑ بیٹھنے سے شانگلہ کے 34 کان کن جاں بحق ہوگئے تھے۔ پے در پے حادثات پر کان کنوں کے خاندانوں میں شدید تشویش پائی جارہی ہے۔شانگلہ کی تقریباً 66 فیصد آبادی براہ راست یا بالواسطہ کان کنی سے وابستہ ہے۔ شانگلہ میں صنعت، فیکٹریوں، کارخانوں اور روزگار کے متبادل ذرائع محدود ہونے کے باعث ہزاروں نوجوان ملک کے مختلف علاقوں کی کوئلے کی کانوں میں انتہائی خطرناک حالات میں کام کرتے ہیں۔ شانگلہ میں کان کنی کا سلسلہ تقریباً تین نسلوں سے جاری ہے اور ایک کان کن کی موت پورے خاندان کو معاشی مشکلات سے دوچار کردیتی ہے۔کان کنی کے حادثات میں متعدد مزدور زخمی ہونے کے علاوہ ہاتھ پاؤں، بینائی اور جسم کے دیگر حصوں سے محروم ہوکر مستقل معذوری کی زندگی بھی گزار رہے ہیں۔ مقامی حلقوں کا کہنا ہیں کہ قدرتی وسائل اور انسانی صلاحیتوں سے مالا مال شانگلہ میں صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے فروغ سے نوجوانوں کو مقامی سطح پر روزگار فراہم کیا جاسکتا ہے۔انھوں نے حکومت، متعلقہ اداروں، منتخب نمائندوں اور کان مالکان سے مطالبہ کیا کہ کانوں میں حفاظتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد، جدید حفاظتی آلات کی فراہمی، کان کنوں کی تربیت، کانوں کی تکنیکی جانچ اور خطرناک مقامات کی نشاندہی یقینی بنائی جائے۔ حادثات کے زخمیوں کو فوری و مکمل طبی امداد، مستقل معذور افراد کیلئے مالی معاونت اور جان بحق کان کنوں کے لواحقین کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔حکومت سے شانگلہ میں صنعت، فیکٹریوں، کارخانوں، فنی تعلیم، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے خصوصی پیکیج دینے جبکہ منتخب نمائندوں سے کان کنوں کے مسائل اسمبلیوں میں اٹھانے ، حادثات کا مستقل ریکارڈ مرتب کرنے اور حفاظتی نظام کی مؤثر نگرانی کا مطالبہ کیا گیا ہیں۔ شانگلہ کے مخیر حضرات اور سرمایہ کاروں سے بھی آبائی ضلع میں روزگار کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی اپیل کی گئی ہیں۔