دوحہ (مانند میڈیا) قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر عملدرآمد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، جبکہ اسرائیل معاہدے کی متعدد شقوں کی پاسداری نہیں کر رہا۔ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ قطر دیگر ثالثوں کے ساتھ مل کر غزہ معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے ، تاہم اسرائیلی حکومت معاہدے سے متعلق کئی معاملات میں پیش رفت روک رہی ہے۔ قطری وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت کے طرزعمل کو نتن یاہو کی سیاسی ضرورتوں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ جب بھی معاہدے کے کسی پہلو پر پیش رفت کی کوشش کی جاتی ہے تو اسرائیلی حکومت اس سے انکار کرتے ہوئے معاملے کو دوسری سمت لے جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس وقت غزہ کی پٹی کے 70 فیصد سے زائد رقبے پر قابض ہے ، جبکہ معاہدے کے تحت اسرائیلی افواج کو انخلا کرنا تھا۔ ان کے مطابق اس کے بجائے غزہ میں فوجی کارروائیاں اور فلسطینی آبادی کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ غزہ میں انسانی امداد کی صورتحال کے حوالے سے شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے کہا کہ اس وقت روزانہ اوسطاً تقریباً 150 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہو رہے ہیں، جبکہ معاہدے کے تحت روزانہ کم از کم 600 ٹرک داخل ہونا لازمی ہے۔ انہوں نے امدادی ٹرکوں کی تعداد میں اس نمایاں فرق کو معاہدے کی خلاف ورزیوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی خلاف ورزیوں کی ایک طویل فہرست موجود ہے اور ان کے مطابق ان میں سے متعدد اقدامات نتن یاہو کی حکومت کی جانب سے کیے جا رہے ہیں۔ قطری وزیراعظم نے کہا کہ قطر سمیت ثالث ممالک معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنانے اور غزہ سے متعلق امن منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، تاہم اس عمل میں بنیامین نتن یاہو اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم اس سے قبل بھی قطر اور دیگر ثالثوں کی جانب سے جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو ناکام بنا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے ہونے والی متعدد کوششوں کو نقصان پہنچایا گیا اور جب بھی ثالث کسی پیش رفت کی طرف بڑھتے ہیں تو ان کوششوں کو کمزور کردیا جاتا ہے۔ قطری وزیراعظم کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب قطر دیگر ثالثوں کے ساتھ مل کر غزہ معاہدے پر عملدرآمد کا جائزہ لے رہا ہے۔ معاہدے کے تحت اسرائیلی انخلا، فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی سمیت مختلف معاملات پر اختلافات بدستور موجود ہیں