کیمبرج، میساچوسٹس (مانند میڈایا) وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ ہارورڈ اسلامک فنانس کانفرنس میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بلاک چین، ڈیجیٹل اثاثوں اور اسلامی مالیات کے مستقبل پر اظہار خیال کیا۔ ”بلاک چین اور اسلامی مالیات کا مستقبل” کے عنوان سے ہونے والی گفتگو میں بلال بن ثاقب کے ساتھ ایم آئی ٹی سلون اسکول آف مینجمنٹ کے سینئر لیکچرر عمران سعید نے بھی شرکت کی۔ گفتگو کے دوران ڈیجیٹل اثاثوں، جدید مالیاتی قوانین اور شریعت کے مطابق مالیاتی نظام کے مستقبل سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بلال بن ثاقب نے اسلامی دنیا کے سنہری علمی دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلم دنیا کو موجودہ دور میں تحقیق، کاروبار اور ٹیکنالوجی کے میدان میں دوبارہ اپنی صلاحیتیں پیدا کرنا ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف نئی ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا کافی نہیں بلکہ ایسے علم، مہارت اور ادارے تشکیل دینا بھی ضروری ہے جو نئی ٹیکنالوجی تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کا احترام صرف اسے یاد کرنے سے نہیں بلکہ نئی چیزیں تخلیق کرنے سے کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایک نیا سنہری دور ماضی کی طرف واپسی نہیں بلکہ دوبارہ علم پیدا کرنے ، صلاحیتیں بنانے اور انسانی مسائل کے حل کی کوشش کا نام ہے۔ گفتگو میں جامعات، مالیاتی اداروں، کاروباری افراد اور شریعہ ماہرین کے درمیان تعاون کی اہمیت پر بھی بات کی گئی۔ اس دوران سرحد پار رقوم کی منتقلی، کاروبار کیلئے مالی معاونت اور مالی اثاثوں کو ڈیجیٹل شکل دینے جیسے شعبوں میں نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ بلال بن ثاقب نے اس امر پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کا اصل فائدہ اس وقت سامنے آتا ہے جب اس کے ذریعے مالی خدمات عام لوگوں کیلئے زیادہ سستی، آسان اور قابل اعتماد بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے مواقع کو فروغ دینے کے ساتھ مالیاتی نظام میں ذمہ داری، نگرانی اور عوام کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔ پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بلال بن ثاقب نے بتایا کہ ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 نے پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کو اس شعبے میں لائسنس جاری کرنے اور نگرانی کیلئے قانونی بنیاد فراہم کی ہے۔ ان کے مطابق اتھارٹی نے نئی مالیاتی ٹیکنالوجی کی آزمائش، عدم اعتراض سرٹیفکیٹ اور باقاعدہ لائسنس کے حصول کیلئے طریقہ کار بھی متعارف کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف قوانین بنانا کافی نہیں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد، صارفین کا تحفظ اور متعلقہ اداروں کی صلاحیت میں اضافہ بھی ضروری ہے۔ ان کے بقول قواعد بنانا صرف آغاز ہے جبکہ اصل امتحان عوام کا تجربہ ہے ، اس لیے صارفین کو ٹیکنالوجی کے فوائد کے ساتھ اپنے حقوق اور ممکنہ خطرات سے آگاہ ہونا چاہیے اور کسی مسئلے کی صورت میں ان کیلئے مدد کا واضح راستہ موجود ہونا چاہیے۔ اسلامی مالیات کے تناظر میں گفتگو کے دوران ریگولیٹری اداروں اور شریعہ ماہرین کے کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے نئی مالیاتی مصنوعات کی تیاری میں دونوں شعبوں کے ماہرین کے درمیان تعاون، ورچوئل اثاثہ جات کیلئے شریعت کے مطابق نظام تشکیل دینے کے امکانات اور اس عمل میں درپیش چیلنجز پر گفتگو کی۔ طلبہ اور نوجوان پیشہ ور افراد سے خطاب کرتے ہوئے بلال بن ثاقب نے مسلم ممالک کے درمیان عملی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مشترکہ تحقیق، مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ٹیموں اور نگرانی کے تحت نئی مالیاتی ٹیکنالوجی کی آزمائش کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ ماضی مسلم ممالک کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے تاہم مشترکہ کام انہیں سمت فراہم کرتا ہے ، اس لیے اتحاد کو صرف تقاریر تک محدود رکھنے کے بجائے نوجوان محققین اور پیشہ ور افراد کیلئے عملی تعاون کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔ ہارورڈ اسلامک فنانس کانفرنس کے 29ویں سال کے موقع پر اس سال کانفرنس کا موضوع عالمی مالیاتی نظام میں تبدیلی، استحکام، تنوع اور اسلامی مالیات کے کردار پر مرکوز تھا۔ کانفرنس کا انعقاد ہارورڈ یونیورسٹی مسلم ایلومنائی اور ہارورڈ اسلامک سوسائٹی کی جانب سے کیا گیا

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے