لاہور(مانند میڈیا) قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ثمینہ سعید نے کہا ہے کہ عوام کے بنیادی حقوق اور مسائل کے حل کے لیے پیش کیے جانے والے محضرنامے کو ہر طبقۂ زندگی تک پہنچانا اور اسے عوامی گفتگو کا حصہ بنانا ہماری بنیادی ترجیح ہے۔ دس روزہ محضرنامہ و دستخطی مہم محض دستخط جمع کرنے کی سرگرمی نہیں بلکہ عوام کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے ، ان کی آواز کو منظم کرنے اور مطالبات کے حق میں وسیع عوامی حمایت پیدا کرنے کی مؤثر جدوجہد ہے۔ وہ مرکزی ٹیم کی ناظماتِ صوبہ و حلقہ اور ذمہ دارانِ میڈیا و نشرواشاعت کے ساتھ مہم کے حوالے سے منعقدہ خصوصی بریفنگ نشست سے خطاب کر رہی تھیں۔ نشست میں دس روزہ مہم کے اہداف، میڈیا کوریج، عوامی رابطے ، نشرواشاعت اور سوشل میڈیا حکمتِ عملی کا جائزہ لیا گیا اور ذمہ داران کو آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا گیا۔ ثمینہ سعید نے کہا کہ محضرنامے کا پیغام گھر گھر، فرد فرد اور ہر طبقے تک پہنچنا چاہیے۔ صوبہ اور حلقہ کی سطح پر میڈیا نمائندگان، صحافیوں، خواتین صحافیوں، اساتذہ، وکلا، ڈاکٹرز، تاجروں، طلبہ، سماجی شخصیات اور دیگر رائے ساز طبقات سے رابطہ کیا جائے اور انہیں محضرنامے کے مطالبات سے آگاہ کرتے ہوئے دستخطی مہم میں شریک کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دس روز کے دوران مہم کے آغاز، پیش رفت اور اختتام پر مؤثر خبری و پریس سرگرمیاں کی جائیں، مقامی اخبارات، نیوز پورٹلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک مسلسل مواد پہنچایا جائے ، جبکہ بڑے شہروں میں پریس کلبوں اور خواتین صحافیوں سے خصوصی رابطہ کیا جائے۔ ہر صوبہ و حلقہ اپنی سطح پر میڈیا پرسنز سے براہِ راست رابطے کو یقینی بنائے اور محضرنامے کو کالمز، بلاگز، انٹرویوز، پوڈکاسٹس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک لے کر جائے۔ قائم مقام سیکرٹری جنرل نے کہا کہ آج کے دور میں جو آواز ڈیجیٹل دنیا تک نہیں پہنچتی، اس کی رسائی محدود رہ جاتی ہے ، اس لیے سوشل میڈیا کو مہم کا مؤثر ذریعہ بنایا جائے۔ دس روز تک روزانہ مرکزی پوسٹ، مختصر ویڈیو یا ریل اور واٹس ایپ کے لیے قابلِ شیئر پیغام جاری کیا جائے ، جبکہ کارکنان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر محضرنامے کے مطالبات کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کریں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ روزانہ محضرنامے کے ایک اہم مطالبے کو نمایاں کرکے اس کی عوامی اہمیت عام فہم زبان میں بیان کی جائے ، ضرورت کے مطابق پمفلٹس، پوسٹرز، اسٹیکرز اور دیگر تشہیری مواد تیار کیا جائے اور مقامی سطح پر عوام کی آسان فہم زبان میں پیغام پہنچایا جائے۔ ثمینہ سعید نے مزید کہا کہ صوبائی، ضلعی اور دیگر مناسب فورمز پر محضرنامے کے مطالبات کی تائید میں قراردادیں پیش کرنے کی کوشش کی جائے اور ان کی میڈیا کوریج کو یقینی بنایا جائے۔ ہر حلقہ اپنی روزانہ پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے دستخطوں، میڈیا رابطوں، شائع ہونے والی خبروں، کالمز، ویڈیوز، صحافیوں سے ملاقاتوں اور مہم میں شریک اہم شخصیات کی مختصر رپورٹ مرکزی سطح پر ارسال کرے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی میڈیا و نشرواشاعت سیل کی جانب سے یکساں بنیادی پیغام، روزانہ سوشل میڈیا مواد، کارڈز، کیپشنز، مختصر ویڈیو اسکرپٹس اور محضرنامے کے مطالبات پر تحریری مواد فراہم کیا جائے گا، جبکہ صوبوں اور حلقہ جات کی نمایاں سرگرمیوں کو مرکزی پلیٹ فارمز پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے گا۔ ثمینہ سعید نے ناظمات اور میڈیا و نشرواشاعت کی ذمہ داران پر زور دیا کہ یہ مہم صرف دستخطوں کا ہدف پورا کرنے تک محدود نہ رہے بلکہ عوام کے حقوق کی ایسی توانا آواز بنے جو ایوانوں، میڈیا اور معاشرے کے ہر فورم تک پہنچے۔ تمام ذمہ داران باہمی رابطے ، نظم و یکسوئی کے ساتھ بھرپور محنت کریں اور دس روز میں محضرنامے کو زیادہ سے زیادہ عوام تک پہنچانے کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔ میٹنگ کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی حقوق کے لیے شروع کی گئی یہ مہم منظم عوامی رابطے اور اجتماعی جدوجہد کے ذریعے ایک مؤثر آواز بنے گی۔#