اسلام آباد(مانند میڈیا) کیسپرسکی کے ماہرین نے پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک میں بچوں کی ڈیجیٹل دلچسپیوں اور آن لائن سرگرمیوں کا جائزہ لیا ہے۔ جنوری سے اگست 2026 کے دوران بچوں کی جانب سے سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی ویب سائٹس اور استعمال کی جانے والی مقبول موبائل ایپلی کیشنز کا تجزیہ کیا گیا، جس میں سائبر سیکیورٹی کے ان خطرات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے جن کا بچوں کو مختلف آن لائن پلیٹ فارمز، بشمول ملٹی پلیئر آن لائن گیمز، پر سامنا ہوسکتا ہے۔ ماہرین نے مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے نئے خطرات کی بھی نشاندہی کی ہے۔ کیسپرسکی کے ماہرین کے مطابق پاکستان میں جنوری سے اگست 2026 کے دوران بچوں میں یوٹیوب 31.2 فیصد استعمال کے ساتھ سب سے مقبول موبائل ایپلی کیشن رہی، جبکہ انسٹاگرام 18.8 فیصد کے ساتھ دوسرے اور واٹس ایپ 17.4 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔ فیس بک کا استعمال 10.8 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ٹک ٹاک 5.7 فیصد کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہا۔ پاکستان میں بچوں کی جانب سے سب سے زیادہ وزٹ کیے جانے والے آن لائن وسائل میں ملٹی پلیئر گیمز بھی ٹاپ 10 میں شامل رہے۔ ان میں روبلوکس جیسے مقبول گیمز شامل ہیں، جنہیں بچے اسمارٹ فونز اور کمپیوٹرز دونوں پر استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈسکارڈ، جو رابطے اور آن لائن کمیونٹی کے لیے استعمال ہونے والا پلیٹ فارم ہے ، بھی پاکستان میں بچوں کی جانب سے ڈیسک ٹاپ پر استعمال کیے جانے والے وسائل میں شامل رہا۔ کیسپرسکی میں چائلڈ آن لائن سیفٹی کے سربراہ آندرے سیڈینکو نے کہا کہ بچوں کو آف لائن محفوظ رکھنے والے بنیادی اصول آن لائن دنیا میں بھی لاگو ہوتے ہیں۔ نقصان دہ عناصر خود کو بچوں کے ہم عمر افراد کے طور پر ظاہر کرسکتے ہیں یا سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی معلومات کو استعمال کرکے بچے کا اعتماد حاصل کرسکتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ اجنبی افراد سے رابطہ نہ کریں، ذاتی تصاویر یا حساس معلومات شیئر نہ کریں اور آن لائن گفتگو کو خفیہ نہ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو یہ اعتماد بھی ہونا چاہیے کہ اگر کوئی چیز انہیں غیر محفوظ یا بے آرام محسوس کرائے تو وہ ہمیشہ کسی قابل اعتماد بالغ فرد سے بات کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق گھر میں کھلی گفتگو بچوں کو آن لائن خطرات سے نمٹنے میں مدد دینے کے مؤثر ترین طریقوں میں سے ایک ہے۔ کیسپرسکی میں مشرق وسطیٰ، ترکیہ اور افریقہ کے لیے کنزیومر چینل کے سربراہ سیف اللہ جدیدی نے کہا کہ والدین اور بچوں کو فراڈ، فِشنگ اور سائبر بُلنگ سے لے کر آن لائن گرومنگ تک عام خطرات سے آگاہ ہونا چاہیے ، جبکہ جنریٹو مصنوعی ذہانت سے وابستہ نئے خطرات پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق عوامی طور پر شیئر کیا جانے والا مواد جعلی تصاویر یا ویڈیوز تیار کرنے کے لیے دوبارہ استعمال کیا جاسکتا ہے ، جس سے بچے کی نجی زندگی اور ڈیجیٹل ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ ہوسکتا ہے۔ بچوں میں بہتر ڈیجیٹل عادات پیدا کرنا، انہیں آن لائن شیئر کی جانے والی معلومات کے بارے میں محتاط رہنے کی ترغیب دینا اور والدین کے کنٹرول جیسے ٹولز، مثال کے طور پر کیسپرسکی سیف کڈز ، کا استعمال بچوں کے تحفظ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے