لاہور (مانند میڈیا)ملک کے مستقبل کے لیے نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ضروری ہے، نوجوانوں اور حکمرانوں کی سوچ کے درمیان فاصلے کو کم کرنا ہوگا، پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ نوجوانوں کی خواہشات کو نہ سمجھنا  ہے۔ان خیالات کا اظہار  قومی مکالمہ کانفرنس نوجوانوں کے مستقبل، غربت، تعلیم، روزگار اور ریاستی اصلاحات سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا۔ قومی مکالمہ کانفرنس میں اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، فواد چوہدری، فواد حسن فواد، ڈاکٹر معید یوسف اور ایئر کمانڈر (ر) خالد چشتی سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی اور نوجوان نسل کے مستقبل، ملکی معاشی مسائل، ریاستی ڈھانچے، جمہوری نظام، تعلیم، صحت، روزگار اور وسائل کی منصفانہ تقسیم پر اظہار خیال کیا۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے الزام تراشی کے بجائے عملی اقدامات، مؤثر پالیسی سازی، میرٹ اور نوجوانوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنا ضروری ہے۔اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوان نسل کی رائے کو اہمیت دینا، ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کرنا اور انہیں معاشرتی مکالمے میں شریک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوان شناخت کے بحران اور عزتِ نفس جیسے مسائل سے دوچار ہیں، جنہیں سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی نظام میں ہر شہری کے وقار اور عزتِ نفس کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے، جبکہ سیاست میں محض مقبولیت کافی نہیں بلکہ عوام سے حقیقی رابطے اور عملی کردار کے ذریعے مثال قائم کرنا بھی ضروری ہے۔ملک محمد احمد خان نے پاکستان میں غربت اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وسائل اور اختیارات پر محدود طبقوں کا غلبہ نظر آتا ہے، جس کے باعث مڈل کلاس کے لیے ترقی کے مواقع محدود ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشروں کی ترقی میں مڈل کلاس بنیادی کردار ادا کرتی ہے اور پاکستان کو آگے بڑھانے کے لیے میرٹ، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اختیارات کے شفاف استعمال کو یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے عالمی بینک کی غربت سے متعلق رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ماہانہ 4,800 روپے میں گھرانے کے گزارے سے متعلق اعداد و شمار کو تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ میرٹ کے نام پر صوابدیدی اختیارات کا استعمال اداروں اور معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج ملک کو نوجوان نسل کو سننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے، لیکن حکمران اب بھی ماضی کے روایتی اندازِ فکر کے تحت ملک چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق جنریشن زی کی خواہشات، تعلیم حاصل کرنے کے طریقے اور معلومات تک رسائی ماضی کی نسلوں سے مختلف ہیں، اس لیے نوجوانوں اور حکمرانوں کی سوچ کے درمیان فاصلے کو کم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ نوجوانوں کی خواہشات کو نہ سمجھنا ہے؛ نوجوان معیاری تعلیم، روزگار، کاروبار کے مواقع اور بہتر ماحول چاہتے ہیں، جو فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے صحت اور تعلیم کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں شعبوں کو قومی ترجیحات میں سرفہرست رکھنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی نسل کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کی ناکامی ہم سب کی ہے، تاہم اب بھی وقت ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر ملک کے معاملات درست کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان باشعور ہیں، انہیں معلومات تک رسائی حاصل ہے اور وہ اپنے بنیادی حقوق سمیت ریاست کی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں، اس لیے حقائق کو چھپانے کے بجائے مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ انہوں نے قانون کے یکساں اطلاق اور احتساب کے لیے تمام طبقات کے ساتھ یکساں معیار اپنانے پر بھی زور دیا۔سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ ریاستی نظام کی رکاوٹیں نوجوانوں کو آگے بڑھنے میں مشکلات پیدا کر رہی ہیں، تاہم نوجوانوں کی صلاحیتیں اور قابلیت ہی ان کی زندگی اور مستقبل کا رخ متعین کریں گی۔ انہوں نے نوجوانوں کے مستقبل کے بارے میں امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ پانچ سے سات برس میں دنیا میں تبدیلیوں کے نتیجے میں روزگار اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو بدلتی دنیا اور مصنوعی ذہانت کے تقاضوں کے مطابق خود کو تیار کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نوجوانوں اور جنریشن زی کی سیاسی شمولیت کا کریڈٹ عمران خان کو دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس وقت سوشل میڈیا کو سیاسی عمل میں استعمال کیا جب دوسری جماعتیں اس کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ نہیں تھیں۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں سیاسی عمل کا حصہ بنانے کی اہمیت کو تسلیم کرنا چاہیے۔ انہوں نے انفارمیشن وزارت میں اپنے دور کے حوالے سے ادارے کو خسارے سے منافع میں لانے کا دعویٰ بھی کیا اور کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق معاملات میں سائنسی اور مذہبی پہلوؤں کو سمجھنا ضروری ہے۔فواد حسن فواد نے کہا کہ نوجوانوں اور جنریشن زی کو اہمیت دینے کے تصور کو پاکستان میں عمران خان نے نمایاں کیا اور تحریک انصاف نے اس وقت سوشل میڈیا کا استعمال شروع کیا جب دوسری سیاسی جماعتیں اس کی اہمیت سے پوری طرح واقف نہیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا 80 سال تک قائم رہنا ایک بڑی کامیابی ہے، تاہم ملک کے مستقبل کے لیے نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق تبدیلی لانے میں محض نوجوانوں کی اکثریت نہیں بلکہ تخلیقی سوچ رکھنے والی اقلیت اہم کردار ادا کرتی ہے، اس لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ نوجوان کیا سیکھ رہے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو کس طرح استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ ریاستی ڈھانچے دنیا بھر میں نوجوانوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں اور نوجوانوں کو ان رکاوٹوں سے آگے بڑھ کر اپنا راستہ بنانا ہوگا۔ انہوں نے آنے والے پانچ برس میں نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہونے کی امید ظاہر کی۔ رویتِ ہلال کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے یکساں اصول ہونے چاہئیں اور اس معاملے کا شرعی فیصلہ علما کو کرنا چاہیے۔ انہوں نے ملکی مسائل کے حل کے لیے نعروں کے بجائے زمینی حقائق کا جائزہ لینے، پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد اور زرعی شعبے میں سبسڈی کی تقسیم کے طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ پاکستان میں ہر مسئلے کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے اور سیاسی قیادت کو الزام تراشی کے بجائے اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو صرف معلومات فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ انہیں درست انداز میں سوچنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت بھی دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی کے لیے محنت کا کوئی متبادل نہیں؛ سفارش کے ذریعے مقام تو حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن عزت حاصل نہیں ہوتی۔ ملک کی ترقی کے لیے نوجوانوں کو میرٹ پر آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کی ضرورت ہے۔ایئر کمانڈر (ر) خالد چشتی نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ قائداعظم محمد علی جناح کی جدوجہد اور اصول پسندی سے سبق سیکھتے ہوئے ملک کے مستقبل کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ محض مسائل اور ماضی کی غلطیوں کا ذکر کرنے یا ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے سے حالات تبدیل نہیں ہوں گے، بلکہ نوجوانوں کو اپنی سوچ اور صلاحیتوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق صرف تجاویز دینا کافی نہیں، ذمہ داری قبول کرنا بھی ضروری ہے، جبکہ کامیابی کے لیے محنت، دیانت داری، اصولوں کی پاسداری اور طویل المدتی حکمت عملی ناگزیر ہیں۔ انہوں نے قائداعظم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ واضح مقصد اور پختہ عزم کے ذریعے تاریخ کا رخ بدلا جا سکتا ہے۔قومی مکالمہ کانفرنس کا مقصد اہم قومی امور پر مکالمے اور تبادلہ خیال کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔ کانفرنس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی، جن میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان، فواد چوہدری، ڈاکٹر معید یوسف، فواد حسن فواد، ایئر کمانڈر (ر) خالد چشتی، سویرہ مجیب الرحمٰن اور آمنہ حسن شیخ شامل تھے۔ مقررین کی گفتگو کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ نوجوانوں کی امنگوں کو سمجھنے، معیاری تعلیم و صحت کی فراہمی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، میرٹ کے فروغ اور ریاستی اداروں کو بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ کرنے کے ذریعے ہی پاکستان کے مستقبل کو بہتر بنایا جا سکتا ہے

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے