اسلام آباد (مانند میڈیا)اسلام آباد کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے بی ایس (BS) فزکس کے شعبے میں شاندار کارکردگی پر گولڈ میڈل حاصل کرنے والی 24 سالہ لائبہ اعجاز کی لاش گزشتہ روز سیکٹر جی ٹین کے ہفتہ وار بازار میں ایک درخت سے لٹکتی ہوئی پائی گئی تھی : 24 سالہ لائبہ اعجاز کا بنیادی تعلق صوبہ پنجاب کے وسطی شہر سرگودھا سے تھا۔ اس کا خاندان اسلام آباد کے علاقے جی ٹین مرکز میں ایک کرائے کے فلیٹ میں رہائش پذیر ہے۔ لائبہ کے والد جی ٹین مرکز میں ہی دودھ دہی کی ایک چھوٹی سی دکان چلاتے ہیں۔ محدود ترین وسائل اور کرائے کے مکان کے باوجود لائبہ انتہائی ذہین، محنتی اور پڑھنے لکھنے میں سرفہرست تھی۔ اس نے حال ہی میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے بیچلر آف سائنس (BS) میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے گولڈ میڈل اپنے نام کیا تھا۔ بی ایس میں ٹاپ کرنے پر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی نے لائبہ کو سکالرشپ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے سعودی عرب بھیجنے کی آفر کی۔ تاہم، اسی دوران آن لائن کام کے سلسلے میں لائبہ کا رابطہ نعمان نامی ایک شخص سے ہوا۔ نعمان نے خود کو سپریم کورٹ آف پاکستان کا ملازم اور اسلام آباد ہائیکورٹ کا اکاؤنٹس آفیسر بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ پارٹ ٹائم ویزا کنسلٹینسی چلاتا ہے۔ جب لائبہ نے سعودی عرب کی اسکالرشپ کا ذکر کیا، تو نعمان نے اسے جھانسا دیا کہ وہ اسے امریکہ کی عالمی شہرت یافتہ ‘ہارورڈ یونیورسٹی’ میں اسکالرشپ پر داخلہ دلوا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اس نے امریکہ میں موجود اپنی ایک نام نہاد کمپنی اور وہاں مقیم ایک لڑکی کا حوالہ دیا جو لائبہ کی اسپانسر بننے والی تھی۔ نعمان نے مجموعی طور پر 72 لاکھ روپے کا تقاضہ کیا اور لائبہ کو ہارورڈ یونیورسٹی کی اسکالرشپ کا ایک جعلی خط بھی تھما دیا۔ شاطر ملزم نے خاندان کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے لائبہ کے بھائی کو سرکاری ملازمت دلوانے کا وعدہ کر کے الگ سے 5 لاکھ روپے بھی بٹور لیے۔ لائبہ کی بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے اور ڈاکٹر بننے کی شدید خواہش کو دیکھتے ہوئے اس کے والد نے اپنی زندگی کی تمام جمع پونجی داؤ پر لگا دی۔لائبہ کے بھائی نے کاروبار کے لیے والد سے رقم مانگی تھی، مگر والد نے بیٹی کے سپنوں کو ترجیح دی۔والد نے اپنا وہ ذاتی پلاٹ بھی بیچ دیا جو انہوں نے اپنا گھر بنانے کے لیے خریدا تھا اور 21 لاکھ روپے کیش ملزم نعمان کے حوالے کیے باقی رقم کا بندوبست کرنے کے لیے لائبہ کی والدہ کا پورا زیور بینک میں رہن رکھوایا گیا۔اب تک کاغذی کارروائی اور فیسوں کے نام پر ملزم 50 لاکھ روپے سے زائد رقم اینٹھ چکا تھا۔ ملزم نعمان مسلسل دھوکہ دہی کا کھیل کھیلتا رہا۔ وہ بار بار امریکہ کے ویزا انٹرویو کی تاریخیں طے کرتا اور ہر بار انٹرویو سے ٹھیک ایک رات پہلے فون کر کے کہتا کہ "اپوائنٹمنٹ کینسل ہو گئی ہے”۔ جب اس مسلسل لیت و لعل پر لائبہ کو شک ہوا اور بھیجے گئے ڈاکومنٹس کی متعلقہ ذرائع سے چھان بین کرائی گئی تو معلوم ہوا کہ تمام دستاویزات اور اسکالرشپ لیٹر مکمل طور پر جعلی تھے۔ اس بھیانک انکشاف نے لائبہ کو گہرے ذہنی صدمے اور نفساتی دباؤ میں مبتلا کر دیا۔ جب والدین نے اسے تسلی دی تو ملزم نے 12 اکتوبر کی نئی تاریخ دیتے ہوئے مزید 22 لاکھ روپے کا مطالبہ کر دیا۔ 9 اکتوبر کو لائبہ گھر والوں کو بتائے بغیر اپنے ساتھ موبائل فون لے کر خاموشی سے نکل گئی۔ جب کافی دیر تک وہ نہ لوٹی تو اہل خانہ کو تشویش ہوئی۔ اس نے اپنے بہنوئی زید بن افضال کو فون کیا اور گلوگیر آواز میں التجا کی:”میرے ساتھ ہونے والے فراڈ کے بارے میں میرے والد صاحب کو نہ بتانا، ورنہ وہ مر جائیں گے۔”اس کے بعد اس کا فون بند ہو گیا۔ اہل خانہ نے گھر میں موجود لائبہ کے لیپ ٹاپ کی لوکیشن (جو اس کی بہن کے ساتھ آن لائن منسلک تھا) کے ذریعے ٹریس کیا تو لوکیشن جی ٹین ہفتہ وار بازار کی آئی۔ جب گھر والے وہاں پہنچے تو لائبہ کی لاش ایک درخت سے لٹک رہی تھی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر اسپتال منتقل کیا۔ ایس ایس پی آپریشنز علی رضا اور اسلام آباد پولیس کے انویسٹی گیشن یونٹ کے مطابق معاملے کی ہر پہلو سے تفتیش جاری ہے۔ ابتدائی طور پر اہل خانہ پوسٹ مارٹم نہیں کروانا چاہتے تھے، تاہم انتظامیہ اور تفتیشی حکام کی تسلی کے بعد لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل کر کے اسے سرگودھا منتقل کیا گیا، جہاں متوفیہ کی تدفین کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب، وزیراعظم شہباز شریف کے نوٹس کے بعد ایف آئی اے اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے معاملے کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے اور متوفیہ کے لواحقین کی تحریری درخواست پر ملزم نعمان اور اس کی مبینہ لیڈی ساتھی کے خلاف قانونی شکنبہ کسنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔