اسلام آباد (مانند میڈیا) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ آئین کی خلاف ورزی ہوئی،آپ بتا دیں آئین کی کونسی شق کی خلاف ورزی ہوئی؟ سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے ایک ایک شق کو بیٹھ کر دیکھا، آئین کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی،اس ایکٹ کو غلط صحیح کہہ سکتے ہیں ہمارے خیال میں یہ اقدام درست ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ علامہ راجہ صاحب کو ایک قصہ سنانا چاہتا ہوں، 25نومبر کو ہم نے کہا جگہ دیتے ہیں آپ احتجاج کریں مگر انہوں نے کہا نہیں، ہماری فون پر بات کروائی جائے اس کے بعد بانی سے فون پر بات بھی کروائی گئی تو آدھی پارٹی نے ماننے سے انکار کیا اور کہا کہ ویڈیو پیغام جاری کروائیں۔ محسن نقوی کے مطابق ہم نے بیرسٹر گوہر سے کہا جاکر پیغام ریکارڈ کروا لیں، دوگھنٹے بعد انہوں نے کہا میں ریکارڈ کروانے لگا ہوں مگر بانی پی ٹی آئی نے کہا میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے جاکر ریکارڈ کروائوں گا، جب ہم سلاخوں کے پیچھے لے کر گئے تو کہا میں نے آج نہیں کل یہ پیغام ریکارڈ کروائوں گا، جس پر ہم نے کہا آپ کی پارٹی دھرنا دے رہی ہے، آج ہی ریکارڈ کروائیں انہوں نے انکار کردیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اس ساری صورت حال کے باوجود میں نے آخری رات پونے بارہ بجے بھی انہیں فون کیا، اس بات کی تصدیق اپنی پارٹی کے لوگوں سے کرسکتے ہیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ ایوان میں مذاکرات ہوئے، ہماری بات چیت شروع ہی دہشتگردی پر ہوئی تھی، دہشتگردی کے 7 سے8 نکات پر بات ہوئی، اسد قیصر نے کہا ہم ان سب نکات پر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ اسد قیصر سے کہا آپ کا اور کے پی حکومت کا نقطہ نظر الگ ہے۔پہلے کوئی سیاسی بات نہیں ہوئی تھی۔ محسن نقوی نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کا آپشن 26 نومبر کو بھی تھا، اس دن معاہدہ ہو جاتا تو یہ نہیں ہوتا، ہم میں سے کوئی نہیں چاہتا تھا کہ ایمرجنسی لگے۔ ہماری شہادت ہوتی تھیں اور سی ایم ان کے خلاف تقریر کرتے تھے جو شہید ہوئے۔ہم نے سیاسی بات کو دہشتگردی سے نتھی نہیں کیا، چوتھی دفعہ6 تبدیلیاں تجویز کی گئیں ہم نے ان سب کو مانا۔جب سب طے ہوا تو تحریر وزیراعلیٰ کو گئی۔وزیراعلیٰ نے وہ ٹیکسٹ مراد سعید کو بھیجا، اس کے بعد دو دن کی محنت ضائع ہوگئی۔ اگر فیصلے وزیراعلیٰ نے کرنے تھے اور کمیٹی کے پاس اختیار نہیں تھا ہمیں پہلے بتا دیتے۔ فیصلہ حکومت نے کیا ہے جو آسان فیصلہ نہیں تھا۔ محسن نقوی نے کہا کہ آخری بار جو ہمارے مذاکرات جاری تھے اس میں اسد قیصر نے اگلے دن کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر ہم راضی ہیں اگر ایمرجنسی لگانا ہے تو اسے سپورٹ کریں گے۔ اس کے بعد 6ڈرافٹس کے ذریعے تجاویز بھیجی گئیں پھر فائنل ہونے کے بعد اس ڈرافٹ کو خیبرپختونخوا کے وزیراعلی کو بھیجا گیا جنہوں نے یہ مراد سعید کو بھیجا اور پھر ساری چیزیں خراب ہوگئیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ اسی فیصد لوگ دہشتگردی کرنے افغانستان سے آرہے ہیں۔دس میں سے آٹھ خودکش حملہ آور افغان ہوتے ہیں، ہم نے کبھی نہیں کہا وہ پشتون ہیں۔ہم نے کہا تھا پی ٹی آئی کے کچھ لوگوں کا براہ راست طالبان سے تعلق ہے۔کون کس کو کتنے پیسے دے رہا ہے یہ بھی معلوم تھا۔ ہم نے کہا آپ کے لوگ ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔اس کے ثبوت ہیں، کیا سب چیزیں مراد سعید نے سبوتاژ نہیں کیں،مراد سعید فیصلے کر رہا تھا وزیراعلیٰ نہیں۔محسن نقوی نے کہا کہ ان کی کابینہ کے لوگوں نے کہا کہ مراد سعید نے ہمیں مروا دیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ مجھے اللہ تعالی سے بہت امید ہے کہ ہم کامیاب ہوں گے اور دہشتگردی کا خاتمہ کریں گے، ہم نوجوانوں کو ساتھ لے کر چلیں گے ہمارا صرف اور صرف ایجنڈہ دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ ہمیں ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے اپنے اندر ان لوگوں کو دیکھیں جنہوں نے پارٹی اور حکومت کو یہاں تک پہنچایا، چند لوگ تھے جنہوں نے سب کو نقصان پہنچایا، ہم جس حد تک جا سکتے تھے گئے ہیں۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے