لاہور (مانند میڈیا) مرکزی کسان لیگ کے صدر محمد اشفاق ورک نے کہا ہے کہ پاکستان میں بڑھتی غربت، مہنگائی اور عوام کی قوت خرید میں کمی غذائی تحفظ کے حصول میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود لاکھوں خاندان معیاری اور غذائیت سے بھرپور خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ غذائی تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ خوراک کی دستیابی کے ساتھ ہر شہری کی اسے خریدنے کی صلاحیت بھی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ غربت، بے روزگاری، موسمیاتی تبدیلی، سیلاب اور زرعی آمدنی میں کمی غذائی بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ کم آمدنی والے خاندان بڑھتی قیمتوں کے باعث خوراک کی مقدار اور معیار پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہیں، جس کے بچوں کی صحت اور نشوونما پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اشفاق ورک نے کہا کہ حکومت کو غربت میں کمی اور عوام کی قوت خرید بڑھانے کے لیے مؤثر معاشی و سماجی پالیسیاں اپنانی چاہییں۔ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے سماجی تحفظ اور غذائیت کے پروگرام مؤثر بنانے کے ساتھ بنیادی اشیائے خورونوش کی مناسب قیمتوں پر فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ غذائی تحفظ کا براہ راست تعلق کسان کی خوشحالی سے ہے۔ زرعی مداخل کی قیمتوں میں اضافے، پیداواری اخراجات اور فصلوں کا مناسب معاوضہ نہ ملنے جیسے مسائل حل کیے بغیر زرعی پیداوار میں پائیدار اضافہ ممکن نہیں۔ حکومت معیاری بیج، کھاد اور زرعی سہولیات کی مناسب قیمتوں پر فراہمی، جدید آب پاشی، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت رکھنے والی ٹیکنالوجی اور بہتر ذخیرہ و ترسیل کے نظام کو فروغ دے۔ انہوں نے کہا کہ غربت میں کمی، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ اور سستی، معیاری خوراک تک سب کی رسائی ہی پائیدار غذائی تحفظ کی بنیاد ہے