ایبٹ آبا (مانند نیوز)قائم مقام گورنر خیبر پختونخوا و سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی نے کہا ہے کہ پاکستان کو خوشحال اور مستحکم بنانے کے لئے تمام اداروں کو ایک پیج پر رہ کرجدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک سیاسی، انتظامی اور معاشی طور پر مستحکم ہوگا تو اس کے ثمرات خوشحالی کی صورت میں عوام تک پہنچیں گے اورخدانخواستہ ملک ڈیفالٹ کر گیا تو سب اس کی لپیٹ میں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ7 نومبر کے بعدملک میں نئے الیکشن کی تاریخ کا تعین ہوسکتا ہے۔مرکزی حکومت صوبائی حکومت کے حصہ کی واجبالادا رقوم نہیں دیرہی ہے۔ان حالات میں ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی بھی مشکل ہو رہی ہے۔ وکلا ء کسی بھی معاشرے کا اہم حصہ ہوتے ہیں اس لئے لوگ بھی وکلاء کی بات کو اہم خیال کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کے وکلا ء نے جمہوریت کی بحالی اور قانون کی حکمرانی کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ جمہوری حکومتیں ان قربانیوں کی قدر کرتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز پشاور ہائیکورٹ بار ایبٹ آباد بنچ میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں صدر ہائیکورٹ بار مہدی زمان ایڈوکیٹ،جنرل سیکرٹری ملک نعمان ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سجاد خان،خیبر پختونخوا بار کونسل کے چیئرمین محمد علی خان ایڈووکیٹ، ہری پور،مانسہرہ،ایبٹ آبا د اوربٹگرام بار کے صدور، ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی کابینہ کے عہدیداران سینئر وکلاء بھی موجود تھے۔قائم مقام گورنر و سپیکر مشتاق احمد غنی نے اس موقع پر خیبرپختونخوا حکومت کی طرف سے ہائی کورٹ بار کے لیے 30 لاکھ روپے کی گرانٹ کا چیک بھی بار کے صدر کو پیش کیا۔ مشتاق احمد غنی  کا کہنا تھا کہ قوموں کی تاریخ میں جب بھی کوئی فیصلہ کی گھڑی آتی ہے وکلاء اس میں رہنمائی کرتے ہیں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنے  ماضی میں جھانک کر قومی مستقبل کے فیصلے کیے جائیں۔پاکستان کو ایک مستحکم اور خودار مملکت بنانے کے لئے متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ مشتاق احمد غنی نے ایبٹ آباد کے عوام کے مسائل کم کرنے کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایبٹ آباد کی ترقی کے لئے مکمل کیے گئے منصوبوں پر فخر ہے جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں بڑے بڑے عہدوں پر لوگ فائز رہے ہیں لیکن وہ اس شہر کی ضروریاتِ سے غافل رہے۔ قائم مقام گورنر نے بتایا کہ انہوں نے اپنی وزارت کے دور میں بیوروکریسی کی مخالفت کے باوجود ایبٹ آباد میں یونیورسٹی بنائی۔ اسی دور میں ایبٹ آباد میں نئے کالجز کی منظوری حاصل کی اور صوبہ کا تیسرا ریسکوا 1122 سنٹرایبٹ آباد میں لے کر آیا۔قائم مقام گورنر مشتاق احمد غنی کا کہنا تھا کہ ایک ارب روپے کی لاگت سے شہر کو خوبصورت بنایا۔شملہ پہاڑی،ملک پورہ،جناح پارک کی تزئین کے علاوہ شہر کی تمام سڑکوں کی تعمیر نو کی۔ایبٹ آباد مری روڈ کا منصوبہ مکمل کیا اور شہر سے ٹریفک کا بوجھ کم کرنے کے لئے دہمتوڑ بائی پاس بنایا۔اس کے علاوہ کئی سکولز  اپ گریڈ کئے اور دو ان ڈور جمنیزیم بنائے۔انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد میں جمنیزیم کی تعمیر کے لئے جگہ کا تعین ہو چکا ہے۔ایبٹ آباد میں جدید سپورٹس کمپلیکس تعمیر کیا جائے گاجو اے ڈی پی میں شامل ہے۔انہوں نے ایبٹ آباد ڈی ایچ کیو کی تعمیر نو کے حوالہ سے بتایا کہ یہ  1956میں تعمیر ہوا۔اس کے لئے کنسلٹنٹ نے بھی اس کی تعمیر نو کی تجویز دی تھی اس کے لئے ایک بلین کی منظوری حاصل کی تھی۔حکم امتناعی کی وجہ سے اس میں ایک سال ضائع ہوا یہ قومی ورثہ میں شامل نہیں۔اس کے لئے ہائیکورٹ بار میں قرار داد کی منظوری سے حکم امتناعی خارج ہوااب ہسپتال کی تعمیر نو کا  اگلے ہفتہ وزیر اعلی افتتاح کریں گے اس کو کٹیگری اے میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال کی بلڈنگ کی بھی ازسرے نو تعمیر ہو گی۔ انشا اللہ آئندہ ہفتہ  میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا ڈی ایچ کیو ہسپتال کے سا تھ ایبٹ آباد میں مختلف 17ارب کی سکیموں کا بھی ا فتتاح کریں گے۔ان منصوبوں میں گریوٹی سکیم،ٹھنڈیانی روڈ اور سیاحت کے فروغ کے اقدام شامل ہیں۔اس منصوبہ میں ایبٹ آباد پشاور اور سوات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد سے ڈمپنگ گراؤنڈ دوتار میں منتقل کیا جائے گا جہاں دنیا کا جدید ترین پلانٹ لگایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ یہ منصوبے پہلے کیوں نہیں بنائے گئے پہلے بھی تو عوامی نمائندے تھے اس میں فرق صرف قیادت کا ہے۔ٹھنڈیانی کو بین الاقوامی سطح کے معیار کے مطابق خوبصورت کریں گے۔تجاوزات کے حوالہ سے انہوں نے بتایا کہ ایبٹ آباد میں کینٹ بورڈ کی حدود میں تجاوزات  سے مسائل پیدا ہوئے یہاں سے تجاوزات ختم کرکے آبی گزر گاہوں کو گہرا اور کشادہ کریں گے۔قبل ازیں صدر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن مہدی زمان ایڈووکیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بار ایسوسی ایشن بہت کم سیاستدانوں کو مدعو کرتی ہے۔وکلاء مختلف جماعتوں سے بھی تعلق رکھتے ہیں لیکن ان کی جماعت ان کا کالا کوٹ ہے یہ اتحاد کی علامت ہے جس پر جتنا فخر کریں کم ہیں۔ایبٹ آباد میں سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مشتاق احمد غنی کی بے لوث خدمت نے اپنا مقام بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہائیکورٹ بار کے لئے 30لاکھ کی گرانٹ دینے پر مشکور ہیں جب کہ صوبائی حکومت مشکل معاشی حالات سے گزر رہی ہے۔صدر ہائیکورٹ بار مہدی زمان نے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ  بار روم میں وکلا ء کی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ ہے۔بار کی توسیع اورکار پارکنگ کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔سپیکر مشتاق احمد غنی نے ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ بار کے لئے سولر سسٹم اور مذید گرانٹ دینے کی بھی یقین دہانی کرائی۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے