مالاکنڈ (مانند نیوز) خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات و تعلقات عامہ ارشد خان نے کہا ہے کہ دور جدید کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنے نوجوان نسل کو دینی و عصری علوم سے روشناس کرانا ہوگا۔ کیونکہ دینی و جدید عصری علوم پر عبور حاصل کئے بغیر ہم ترقی یافتہ قوموں کے صف میں کھڑے نہیں ہوسکتے۔ اس سلسلے میں سرکاری تعلیمی اداروں کیساتھ ساتھ نجی تعلیمی ادارے بھی اپنا کردار ادا کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز آکسفورڈ ایجوکیشن اکیڈمی بٹ خیلہ میں دو روزہ سائنسی نمائش کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں سینیٹر مشتاق احمد خان، ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ محمد شہاب خان، چیف انجینئر محکمہ مواصلات و تعمیرات طارق خان، اسسٹنٹ کمشنر بٹ خیلہ شکیل احمد کے علاوہ اساتذہ کرام، والدین اور طلباء بھی کثیر تعداد میں موجود تھے۔ سیکرٹری اطلاعات ارشد خان نے کہا کہ تعلیم کا بنیادی مقصد بچوں کے بہترین ماحول میں زندگی بسر کرنے کیلئے ایک تربیت ہے اور ایمان کی تکمیل بھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امام غزالی نے کہا تھا کہ تعلیم فرض عین اور فرض کفایہ ہے۔ تقریب سے آکسفورڈ اکیڈمی کے ڈائریکٹر امجد علی شاہ اور سینیٹر مشتاق احمد خان نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ تعلیم یا علم اگر مادری زبان میں دی جائے تو ترقی تب ممکن ہوگی اور رٹے لگانے کی ضرورت نہیں ہوگی اور مقابلے کے امتحانات بھی قومی و مادری زبانوں میں ہونے چاہئے تاکہ متوسط طبقے کے لوگ بھی آگے جاسکیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ بچوں کو اعلی اور معیاری تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ کھیل کھود کے بہتر مواقع بھی فراہم کرنا ضروری ہے کیونکہ صحت مند رہنے کیلئے کھیل کھود کرنا انتہائی ضروری ہے۔ فارغ اوقات میں بچے کھیل کھود میں حصہ لیں تاکہ دیگر سماجی برائیوں سے بچا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں میں مقابلے کا رجحان ضروری ہیں۔ انہوں نے ملاکنڈ ڈویژن میں تعلیم کے فروغ میں کسفورڈ ایجوکیشن اکیڈمی بٹ خیلہ کے کردار کو سراہا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ قوموں نے اعلی تعلیم اور معیاری تعلیم کو فروغ دیکر ترقی کی اسلئے ہمیں چاہئے کہ من حیث القوم کی حیثیت سے اپنے نوجوان نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں اور ان کو مادری زبانوں میں تعلیم دیا جائے تاکہ یہ نوجوان نسل ملک وقوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے۔ قبل ازیں انہوں نے سائنسی نمائش کا معائنہ کیا اور طلبہ کی جانب سے بنائے گئے مختلف سائنسی و تکنیکی اشیاء کا معائنہ کیا اور ان کے کام کو سراہا گیا۔ انہوں نے ملاکنڈ بورڈ میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنیوالے طلباء و طالبات میں ایوارڈز بھی تقسیم کئے۔