پشاور(نمانئدہ مانند)خیبر میں متنازعہ واٹر سپلائی سکیمز ایمرجنسی بنیاد پر مکمل کرنے کی ہدایات جاری، گھر کی دہلیز پر پانی فراہمی ترجیح ہے. سینئر صوبائی وزیر حامد شاہ خیبرپختونخوا کے نگران وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ حامد شاہ نے ضلع خیبر میں واٹر سپلائی سکیمز سے متعلق کمیونٹی سطح پر پائے جانے والے تنازعات کے حل کے لیے ہدایات جاری کر دئیے. صوبائی وزیر نے یہ ہدایات جمعے کو ضلع خیبر میں واٹر سپلائی سکیمز کے حوالے سے بریفنگ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو دئیے اس موقع پر نگران وزیر برائے ایکسائز منظور آفریدی بھی موجود تھے.دونوں صوبائی وزراء کو چیف انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ یوسف کنڈی اور ایکس این خیبر ابرار حسین نے خیبر میں واٹر سپلائی سکیمز صورتحال پر آگاہ کیا.
بریفنگ میں آگاہ کیا گیا کہ ضلع خیبر میں واٹر سپلائی سکیمز کی بروقت تکمیل میں فنڈز کمی رکاوٹ ہے جبکہ فنڈز کمی کی وجہ سے واپڈا نے بجلی کی فراہمی معطل کر رکھی ہے. مزید اگاہ کیا گیا کہ 9 واٹر سپلائی سکیمز پر کمیونٹی سطح پر تنازعات چل رہے ہیں. 36 واٹر سپلائی سکیمز میں پانی ختم ہونے کی وجہ سے غیر فعال ہوئے.
صوبائی وزیر حامد شاہ نے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ خیبر میں متنازعہ واٹر سپلائی سکیمز ایشوز ایمرجنسی بنیاد پر حل کر دئیے جائیں. اس ضمن میں ہر ایک آپشن استعمال کی جائے. انہوں نے مزید ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ کوئی بھی واٹر سپلائی سکیمز دفتر میں بیٹھ کر نہ بنایا جائے. خیبر میں صاف پانی کی فراہمی پر کام مزید تیز کر دیا جائے.
نگران صوبائی وزیر حامد شاہ نے ریمارکس دیئے کہ کوشش ہے کوئی ماں، بہن اور بچہ پینے کی پانی لانے کے لیے گھر سے باہر نہ نکلیں. کیا فائدہ ہوا جب اکیسویں صدی میں بھی گھر کی دہلیز پر پینے کی پانی مہیا نہیں کر سکتے. انہوں نے کہا کہ کوئی نئی سولرائزیشن یا سکیم مقامی عوامی نمائندہ سے مشاورت بغیر شروع نہ کیا جائے. کوالٹی کنٹرول کی جانب اشارہ کرتے ہوئے صوبائی وزیر حامد شاہ نے کہا کہ برٹش دور کے سکیمز ابھی تک چل رہے ہیں جبکہ ہمارے بنائے ہوئے آئے روز خراب ہو جاتے ہیں جس کی بنیادی وجہ کوالٹی پر کمپرومائز ہے جو نہیں ہونا چاہیے۔