ہنگو(مانند نیوز) اساتذہ کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، کرم میں فرائض انجام دینے والے سرکاری اساتذہ کی ٹارگٹ کلنگ حکومت اور ریاستی اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے، انتظامیہ اور حکومت اساتذہ کرام کو تحفظ فراہم کرے اور شہدا کے لواحقین کو شہدا پیکج دیا جائے۔ حکومت ان معاملات کو حل کرے جن کی بنیاد پر قوم کے معماروں کو ابدی نیند سلایا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار بار ایسوسی ایشن کے رہنماوں شاہ حسین ایڈوکیٹ، نور آواز ایڈوکیٹ، آل پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی رحمان و دیگر نے کرم ڈسٹرکٹ اساتذہ کرام کے قتل پر مبنی دہشت گردی کے واقعہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بار ایسوسی ایشن ہنگو کے زیر اہتمام واقعہ کی مزمت اور شہدا کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کے لئے ریلی نکالی گئی جس میں وکلاء برادری کے نمائندوں نور کریم اورکزئی خان امیر بگٹی، نور آواز ایڈوکیٹ و دیگر وکلاء کے علاوہ ایپٹا کے صدر حاجی رحمان اور ضلع بھر سے سرکاری اساتذہ کرام نے شرکت کی۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امن کمیٹی کے سنئیر رہنما شاہ حسین ایڈوکیٹ، بار کے رہنماء نور آواز ایڈوکیٹ، ایپٹا کے ضلعی صدر حاجی رحمان، نور کریم اورکزئی و دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شلوزان میں چلتی گاڑی پر فائرنگ سے اور تری مینگل ہائی سکول میں فرائض انجام دینے والے سرکاری اساتذہ کی ٹارگٹ کلنگ ایک شرمناک، انسانیت سوز اور انتہائی قابل مزمت واقعہ ہے جس کے خلاف پوری قوم، سول سوسائٹی اور اساتذہ برادری میں شدید اشتعال اور غصہ پایا جاتا ہے۔ مقررین نے کہا کہ نئی نسل کے معماروں کو قتل کرنا اور انہیں ہراساں کرنے کے واقعات مزید برداشت نہیں کئے جا سکتے، پوری قوم شہدا کے خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجتی کرتی ہے اور ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہے۔ مقررین نے کہا کہ ریاستی ادارے انتظامیہ، اور مقتدر حلقے قوم کے معماروں کو تحفظ فراہم کرے اور مستقبل میں ایسے واقعات کے روک تھام کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قتل کئے گئے اساتذہ کرام کے لواحقین کو شہدا پیکج بھی دیا جائے۔ ریلی کے شرکاء نے شہید اساتذہ کرام کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی۔