نوشہرہ (مانند نیوز)نوشہرہ میں 2021 میں بیک وقت ظلم کی انتہا ہوئی تھی۔ پانچ مرڈر دو زخمی ظالمانہ کیس مقدمہ علت نمبر 152 تھانہ اکبرپورہ ضلع نوشہرہ انتہائی سنگین کیس ہے۔بیک وقت ایک ہی خاندان کےپانچ مقتولین میں تین عورتیں دو مرد جبکہ دو شدید زخمیوں میں ایک حاملہ لڑکی جس کا بچا بھی مرگیا تھا ایک اس کا بھائی جبکہ قتل شدہ عورتوں کے پیٹوں میں چھوٹے بچے بھی قتل ہوئے ہیں۔ نوشہرہ کے پہلے افسران روزانہ مجرموں کے گھروں پہ چھاپے مارتے تھے ان کا جینا حرام کر رکھا تھا۔ لیکن اب نوشہرہ پولیس مکمل خاموش ہیں۔ لگتا ہے مجرموں سے بھاری رشوت لیتے ہیں۔ مجرمان محمدزئی میں اپنے کزن سرغنہ لالی کے گھر، جوہر کے گھر اور نمروز ولد فیروز سے قبضہ کیے ہوئے مکان میں دن رات موجود ہوتے ہیں۔ مدعیان ہر محاذ پہ درخواستیں دے چکے ہیں لیکن کوئی انصاف نہ ملا اب احتجاج، اور خود سوزی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔مدعیان کے پاس سارے افسروں کو درخواستیں کرنے کے بھی سارے ثبوت موجود ہیں۔ لیکن ہر آفیسر مدعیان کیساتھ مخلص نہیں ہے۔ مدعیان گزشتہ چار ماہ سے ہر آفس میں، ہر محاظ پہ تقریبا اڑھائی سو دے ذیادہ درخواستیں دے چکے ہیں۔ پولیس افسران یہ بھی نہیں سمجھتے کہ انسان مرے ہیں یا جانور؟ سنگین کیس میں آٹھ مجرموں پہ دعویداری ہے جس میں تین مجرموں کو پشاور شاہ پور کے سابقہ ایس۔ایچ۔او انسپکٹر عمران الدین خان نے گرفتار کیا ہے جبکہ نوشہرہ پولیس کی کارکردگی صفر ہے۔ مدعیان نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال، وزیراعظم پاکستان، وزیرداخلہ، وزیراعلٰی خیبرپختنواہ، آئی۔جی۔پی خیبر پختونخواہ سے اپیل کی ہے کہ اگر یہ جنگل کا قانون نہیں ہے اور یہاں قانون نام کی کوئی چیزموجود ہے تو خدارا ہمیں انصاف دیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔اللہ کی رضا کیلئے ذیادہ سے ذیادہ شیئر کریں تاکہ اعلٰی حکام تک پہنچ سکے۔