پاراچنار (مانند نیوز)ضلع کرم کے دو سو سے زائد اساتذہ نے مطالبات پورے ہونے اور امن کی ضمانت ملنے تک دور دراز علاقوں میں ڈیوٹی نہ دینے کا اعلان کیا ہے اور اساتذہ کے قتل کو افسوسناک اقدام قرار دیا ہےپاراچنار میں طوری بنگش قبائل کے رہنما عنایت طوری علامہ تجمل حسین اور دیگر عمائدین کی موجودگی میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ضلع کرم کے دور دراز علاقوں میں ڈیوٹی انجام دینے والے اساتذہ رہنماؤں ماسٹر بلال حسین اور ماسٹر اقرار حسین نے کہا کہ دو سو سے زائد میل اور فیمیل طوری بنگش قبائل کے اساتذہ دوسرے قبائل کے دور دراز علاقوں میں کام کررہے ہیں کئی سالوں سے وہ تبادلے کیلئے کوششیں کررہے ہیں مگر ان کا تبادلہ نہیں کیا جارہا ہے اور ڈیوٹی کی صورت میں مختلف بہانوں سے اسے قتل کیا جارہا ہے چار مئی کو تری منگل ہائی سکول میں چار اساتذہ سمیت سات افراد کا قتل اس کا واضح ثبوت ہے جہاں صرف اس جواز پر طوری بنگش قبائل کے چار اساتذہ اور تین مزدوروں کو قتل کیا گیا کہ اسی روز دوسرے قبیلے کے ایک شخص کاقتل ہوا تھا اساتذہ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ تب تک دور دراز اور دوسرے قبائل کے علاقوں میں ڈیوٹی انجام نہیں دیں گے جب تک انہیں امن کی ضمانت نہیں دیا جاتا اور ٹو ٹو ون ون کے فارمولے کے مطابق اساتذہ ڈیوٹی کیلئے تعینات نہیں کئے جاتے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جس فارمولے پر اساتذہ بھرتی کئے جاتے ہیں اسی فارمولے کے مطابق ڈیوٹی پر بھی تعینات کئے جائیں