اسلام آباد(مانند بزنس ڈیسک)بجٹ اسٹریٹیجی پیپر 3 سال کی مدت کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے آئندہ ہفتے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
آئندہ مالی سال کے دوران بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 6.4 فیصد تجویز کیا جا رہا ہے۔
اگلے مالی سال کے دوران مجموعی خسارہ آئندہ مالی سال میں 5.1 فیصد رہے گا، بجٹ خسارے کا مجموعی پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 0.3 فیصد کا تخمینہ ظاہر کیا گیا۔
اگلے مالی سال کے لیے ایف بی آر کا ٹیکس وصولیوں کا ہدف کا تخمینہ 9.2 ٹریلین مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 30 جون کو ختم ہونے والے مالی سال میں ٹیکس کی مد میں 7.2 ٹریلین روپے جمع کیے جا سکتے ہیں، ایف بی آر آئندہ بجٹ میں زیادہ سے زیادہ 8.6 ٹریلین روپے کا ہدف مقرر کرنا چاہتا ہے۔
اگلے مالی سال کے دوران شرح نمو 3.4 فیصد اور مہنگائی کی شرح 21 فیصد مقرر کرنے کا امکان ہے، اگلے مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ 8 ارب ڈالرز مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔
بجٹ کیلنڈر کے مطابق 31مئی 2023ء تک فنانس ڈویژن بجٹ کو حتمی شکل دینے کی تاریخ اور پروگرام کی سمری وزیراعظم کو پیش کی جائیگی۔ یہ سمری وزیر خزانہ اسحاق ڈار پیش کرینگے جبکہ ماہ رواں کے آخر تک فیڈرل بورڈ آف ریونیو 2023-24ء کا فنانس بل تیار کر لے گا۔بجٹ عوام دوست ہو گا‘ سول و فوجی ملازمین کی تنخواہ و پنشن میں 15تا 35فیصد اضافے کا امکان ایف بی آر تخمینہ جاتی ٹیکس اور اخراجات کا گوشوارہ 31مئی تک تیار کریگا۔ مالی سال 2023-24ء کے وفاقی بجٹ کی منظوری وفاقی کابینہ 10جون کی دوپہر وزیراعظم کی صدارت میں دیگی جس کے فوری بعد وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو سنیٹر اسحاق ڈار قومی اسمبلی میں مالی سال 2023-24ء کا عوام دوست بجٹ پیش کرینگے۔ بجٹ میں سول و فوجی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں پندرہ سے پینتیس فیصد امکانی طور پر اضافہ کیا جائیگا۔ 9جون 2023ء کو 30جون 2023ء کو ختم ہونے والے پہلے دس ماہ کا اقتصادی جائزہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار پیش کرینگے۔ سالانہ پلان کوآرڈنیشن کمیٹی کا اجلاس پلاننگ ڈویژن میں ہفتہ رواں میں کر دیا جائیگا جبکہ قومی اقتصادی کونسل سالانہ ترقیاتی پروگرام کی مئی کے تیسرے ہفتے میں منظوری دیگی۔ قومی اقتصادی کونسل اجلاس کی صدارت وزیراعظم شہباز شریف کرینگے جس میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ‘ آزاد کشمیر کے وزیراعظم‘ گلگت بلتستان کے سربراہ‘ تمام صوبوں کے وزرائے خزانہ‘ سیکرٹری خزانہ بھی شریک ہونگے۔ ایکسیس بجٹ اسٹیٹمنٹ فنانس ڈویژن ہفتہ رواں میں تیار کریگا۔ مئی کے دوسرے ہفتے میں ہی وزارت خزانہ موجودہ اور ترقیاتی بجٹ کے تخمینہ جات کو آخری شکل دیگا۔ بجٹ کیلنڈر 2023-24ء کے مطابق کیبنٹ کی طرف سے بجٹ سٹرٹیجی پیپر کی منظوری وفاقی کابینہ دینے والی ہے جبکہ بجٹ سٹرٹیجی پیپر 2023ء سے 2026ء تک وزارت خزانہ تیار کر رہی ہے۔ گزشتہ ماہ وزارت خزانہ نے ڈیمانڈ ریویو میٹنگ کی۔ وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں وزیر خزانہ اپنے تاریخ ساز خطاب میں پیش کرینگے جبکہ اُسی شام سینٹ آف پاکستان میں وزیر خزانہ کی تقریر اور بجٹ دستاویزات تمام سنیٹرز کے میز پر پیش کر دی جائینگی۔ وفاقی وزیر خزانہ سنیٹر اسحاق ڈار اتوار 11جون کو بعداز میزانیہ میڈیا کانفرنس میں وفاقی بجٹ کے اہم نکات کی وضاحت کرینگے اور سینئر صحافیوں کے سوالوں کا جواب دینگے۔ قومی اسمبلی دو روز کے وقفے کے بعد 12/13 جون سے نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ پر اہم بحث کا آغاز کریگی جس میں سرکاری بنچوں اور اپوزیشن کے تمام اراکین کو اپنا اپنا نکتہ نگاہ پیش کرنے کا سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف موقع فراہم کرینگے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے