پشاور (مانند نیوز) آل میونسپل ورکرز یونینWSSP رجسٹرڈ CBA پشاور کے چیئرمین ریاض خان جنرل سیکرٹری عابد سہیل,سابقہ جنرل سیکرٹری محمد فاضل خانخیل,ہنر خان,نصیر خان,صلاح الدین و دیگر عہدیداران نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم میئر پشاور سے انصاف مانگنے آئے ہیں لیکن میئر صاحب اپنے لیئے انصاف مانگنے اسلام آباد چلے گئے میئر صاحب پہلے ہمارے ملازمین کو تو انصاف فراہم کرتے پھر اپنے لیئے انصاف مانگنے کے لیئے اسلام آباد جاتے ملازمین کے چولہے ٹھنڈے پڑچکے ہیں ملازمین اور ان کے بچے شدید کوفت میں مبتلاء ہیں فاقوں پر مجبور ہیں کوئی پرسان حال نہیں ملازمین کے پاس کھانے کے لیئے پیسے نہیں تو اپنے بیمار بچوں کو ڈاکٹر سے علاج کیسے کروائے دھرنے کے دوران ضلعی انتظامیہ کی جانب سے چیئرمین ریاض خان سے رابطہ کیا اور مذکرات کی دعوت دی چیئرمین ریاض خان نے مذاکرات کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے مذاکرات کے لیئے روانہ ہوئے چیئرمین ریاض خان کی قیادت میں قیصر باچا چیئرمین مزدور اتحاد اور دیگر نے ADC عمران خان اور AC عطاءالرحمان کیساتھ کامیاب مذاکرات کیئے کمشنر پشاور ڈویژن نے خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے وزیر اعلی سے رابطہ کیا اور پھر چیف سیکرٹری سے رابطہ کیا چیف سیکرٹری نے فنانس ڈپارٹمنٹ سے WSSP کو 60 کروڑ کا خصوصی گرانٹ ملازمین کی تنخواہوں کے لیئے دینے کے احکامات جاری کردیئے یہ 60 کروڑ روپے ہمارے ملازمین کی تین ماہ کی تنخواہ ہے انشاء اللہ ملازمین کو یہ تنخواہ 2 دنوں میں مل جائیگی اور آئیندہ یکم سے تنخواہ لیٹ نہیں ہوگی چیئرمین ریاض خان اور جنرل سیکرٹری عابد سہیل نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آج کی ہڑتال ختم کرتے ہیں پانی کی سپلائی فوری طور پر بحال کریں اور صفائی کاکام کل سے شروع کرینگے انہوں نے سابقہ MPA ثمر ہارون بلور صاحبہ اور ان تمام چیئرمینان صاحبان کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے آج دھرنے میں شرکت کرکے ملازمین کی حوصلہ افزائی کی اور ہم ان تمام چیئرمینان سیاسی شخصیات اور سماجی شخصیات کے علاوہ پشاور کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور پشاور کے عوام سے تکلیف پر معذرت کرتے ہیں چیئرمین ریاض خان اور جنرل سیکرٹری عابدسہیل نے پانچوں زونز کے ملازمین کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اسی طرح ملازمین کے حقوق کے لیئے ہماری جدوجہد جاری رہےگی اللہ کے فضل و کرم سے ملازمین کے حقوق پر نہ پہلے سمجھوتا کیا ہے اور نہ آئیندہ سمجھوتا کرینگے اس سے پہلے کمپنی منیجمنٹ نے یونین سے مذاکرات میں 5 مطالبے مانے تھے ان مطالبات میں ایک تنخواہوں کا مطالبہ تھا جو کمپنی کے دائرہ اختیار سے باہرتھا اللہ نے وہ مسئلہ حل کردیا لیکن باقی 4 مطالبات کمپنی کے دائرہ اختیار میں ہے ٹیوب ویل اپرئٹروں کو 8 ماہ کے بقایاجات و کمپنی کیڈر ملازمین سالانہ انکریمنٹ کے 7 ماہ کے بقایاجات اگلی تنخوایوں کیساتھ فوری طور پر ادا کریں اور 37 ملازمین کے ہائی کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کو یقینی بنائے کمپنی منیجمنٹ ان مطالبات کو فوری عملی شکل دے بصورت دیگر اب کمپنی منیجمنٹ کے خلاف نکلے گے اور اپنے ملازمین کے حقوق لے کر رہینگے