پشاور ( مانند نیوز) آل میونسپل ورکرز یونین WSSP رجسٹرڈ CBA پشاور کا ہنگامی اجلاس ہوا اجلاس میں چیئرمین ریاض خان,جنرل سیکرٹری عابد سہیل صدیق اللہ مشوانی,رضوان اللہ خلیل,علی حیدر,پرویز,ہنر سیلاب,نصیر,اول سید,شاہ حسن نسیم اکبر سہیل سلیم,حسین خان,آصف خان,عبدالسعید,اختر منیر اور یونین کے دیگر تمام عہدیداران نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملازمین کا استحصال بند کیا جائے ہماری تنخواہیں قصدا” لیٹ کرادی جاتی ہیں ہمیں ہر مہینے احتجاج و ہڑتال پر مجبور کیا جارہاہیں مقررین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کئی مہینوں سے ہمارے ملازمین کا اسحتصال جاری ہیں جو لمحہ فکریہ ہے ہمارے ملازمین سرکاری ملازم ہونے کے باوجود کئی کئی دن فاقوں پر مجبور ہوچکے ہیں پچھلے ماہ ہمارے احتجاج کی وجہ سے حکومت نے کمشنر پشاور ڈویژن کی کوششوں کی بدولت سے وزیراعلی صاحب اور چیف سیکرٹری صاحب نے فنانس ڈپارٹمنٹ سے 60 کروڑ روپے فنڈز WSSP کمپنی کو جاری کرنے کی منظوری دی لیکن فنانس ڈپارٹمنٹ نے 20 کروڑ کا چیک پچھلی ماہ کی تنخواہوں کی مد میں کمپنی کو جاری کیا اور مزید کہا کہ ہر ماہ کی تنخواہ کے لیئے الگ الگ فائل بھیج دیں لیکن اس ماہ پھر ہم اسی مقام پر کھڑے ہیں فنڈز منظور ہونے کے باوجود بھی ہم احتجاج پر مجبور ہیں ہمیں آج بھی احتجاج کے بغیر تنخواہیں نہیں ملتی جو کہ انتہائی افسوس ناک ہے اجلاس میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ملازمین کو بروقت تنخواہوں کی ادائیگی اور کمپنی کے خاتمے کے لیئے یونین کو اب سخت فیصلے کرنے ہونگے کیونکہ تنخواہیں بروقت ادا نہ ہونے سے ملازمین ذہنی اذیت میں مبتلاء ہیں کہ ایک طرف ہوشرباء مہنگائی کا طوفان ہے دوسری طرف تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ملازمین کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ملازمین اسی کشمکش میں ہے کہ ہم کام پوری دیانتداری سے کرتے ہیں لیکن تنخواہوں کے لیئے بھی ہمیں ترسایہ جارہاہیں جو سراسر ظلم و زیادتی ہیں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک تمام ملازمین کو تنخواہوں کے ساتھ ساتھ کمپنی کیڈر ملازمین کے سالانہ انکریمنٹ کے بقایاجات اور ٹیوب ویل اپریٹروں کو آٹھ ماہ کے اتوار کے دن کا اوور ٹائم کے بقایاجات ادا نہیں کیئے جاتے,ویدر الاؤنس دیا جائےاور زون سی کے اسٹیبلشمنٹ کلرکس چن بادشاہ اور جواد مجید کو واپس بحال نہیں کیئے جاتےاور37 ملازمین کے ہائی کورٹ کے حکم پر عمل درآمد نہیں ہوتی تب تک ہمارا احتجاجی دھرنا جاری رہیگا اور ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر حکومت کو WSSP کمپنی کو فنڈز دینا دشوار لگتا ہے یا کمپنی کو فنڈ نہیں دینا چاہتی تو اس میں ملازمین کا کیا قصور ہیں حکومت WSSP کمپنی کو ہی ختم کریں تاکہ ملازمین کو آئے روز کی ذلالت سے چھٹکارا مل سکے اور حکومت کو بھی کروڑوں روپے ماہانہ بچت ہوگی ہمارا احتجاجی دھرنا اب اس بات کا فیصلہ کریگا کہ حکومت اس مرتبہ واضح احکامات جاری کریں کہ WSSP کمپنی سمیت صوبے کے تمام کمپنیوں کو ختم کردیا ہےاور تمام ملازمین کو بمعہ اثاثہ جات کیپیٹل میٹروپولیٹن پشاور اور TMAs میں ایڈجسٹ کیئے جائے تب تک احتجاج جاری رہیگا آخر میں چیئرمین ریاض خان اور جنرل سیکرٹری عابد سہیل نے کہا کہ بتاریخ 05 جون بروز پیر سے ملازمین کو تنخواہوں اور بقایاجات کی ادائیگی و دیگر مطالبات کے آرڈر جاری ہونے یا کمپنی کے خاتمے تک پانچوں زونز میں صفائی مکمل طور پر بند رہیگی اور تمام ملازمین حیات آباد ہیڈ آفس کے سامنے پرامن احتجاجی دھرنا دینگے اور یہ دھرنا تنخواہوں و بقایاجات کی ادائیگی و دیگر مطالبات کے آرڈر جاری ہونے یا WSSP کمپنی سمیت صوبے میں تمام کمپنیوں کے خاتمے پر ہی ختم ہوگی