ڈیرہ اسماعیل خان (مانندنیوز)انسداد پولیو اور ای پی آئی پروگرام کے تعاون سے ویئرہائوس میں مقامی صحافی کیلئے میڈیا اورینٹیشن ورکشاپ کا انعقاد کیاگیا، جس میں الیکٹرونکس، پرنٹ و سوشل میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی،اس موقع پر کامینٹ افیسر طارق حبیب مروت کا کہنا تھا کہ انسداد پولیو بارے عوام میں آگاہی کے لیے میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتاانہوں نے کہاکہ جو لوگ انسداد پولیو قطرات سے اپنے بچوں کو محروم رکھے ہوئے ہیں ہماری کاوشوں کے ساتھ ساتھ میڈیا ہی انہیں بہتر طور پر آگاہی دے سکتااور اعتماد میں لے سکتاہے، انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کو پولیو جیسے جان لیوا موذی مرض سے انسداد پولیو کے دو قطرے ہی محفوظ رکھ سکتے ہیں انہوں نے کہاکہ افسوسناک امر ہے کہ دنیا بھر کے 135ممالک میں سے صرف 2مسلم ہمسایہ ممالک پاکستان اور افغانستان ہی ایسے خطے ہیں جہاں پولیو کا وائرس تاحال موجودہے،اور دنیا خطرات محسوس کرتی ہے،لہٰذا ضروری ہے کہ پولیو سے بچائو کیلئے قطرات ضرور پلائے جائیں، انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ میں جنوبی علاقہ جات بالخصوص ڈیرہ اسماعیل خان اوربنوں میں ابھی تک پولیو وائرس موجود ہے، اور دوسرے علاقوں کیلئے بھی خطرے کا باعث ہے، انہوں نے کہا کہ نومبر میں ڈیرہ شہر اور جنوری میں پروآ میں آلودہ پانی کے ٹیسٹ کرنے سے پتہ چلا کہ پولیو وائرس ابھی تک موجود ہے،ورکشاپ میں، ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیونیکیشن سپورٹ آفیسر تسکین عباس، کامنیٹ آفیسر طارق حبیب، ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر وقار اور اسامہ نے بریفنگ دیتے ہوئے پولیو وائرس کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ یہ جرثومہ کیسے جنم لیتاہے اور کس طرح پھیلتا ہے، جبکہ متاثرہ بچہ فالج زدہ ہونے کے ساتھ ساتھ موت کا شکار بھی ہوسکتاہے لہٰذا والدین کو چاہئے کہ پولیو وائرس کیخلاف جنگ میں ہمارا ساتھ دیں اور پاکستان کو پولیو فری خطہ قرار دلوانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں، انہوں نے کہا کہ میڈیا کے نمائندگان مثبت اور تعمیری رپورٹنگ کرکے معاشرے کو شعور دے سکتے ہیںاور انکاری والدین کو قطرے پلانے کیلئے قائل کرنے میں حکومتی اقدامات کو کامیابی سے ہمکنار کرسکتے ہیں۔