بٹ خیلہ (نمائندہ مانند )باجوڑ اور ضلع مالاکنڈ کے سرحدی علاقہ بوساق لیوی پیکٹ کا ملکیتی تنازعہ گورنر خیبرپختو ن خوا کے واضح احکاما ت کے باوجود بھی حل نہ ہوسکا کمشنر مالاکنڈ ڈویژن اور آئی جی پی کی ہدایات بھی کام نہ آسکی باخبرذرائع کے مطابق 1970ء کی دہائی میں باجوڑ مالاکنڈ ایجنسی کی تحصیل کا درجہ رکھتا تھا اور اُس وقت شمال مغربی سمت میں دو دریاؤں دریائے سوات اور دریائے پنجکوڑہ(تیمرگرہ) کے میلاپ کے مقام بوساق پر مالاکنڈکی حدود میں باجوڑ لیوی فورس کے لیے ایک راہ داری پیکٹ چیک پوسٹ تعمیرکرایا گیاتھاوقت کے ساتھ باجوڑ الگ ایجنسی کی حیثیت حاصل کرگئی اورحال ہی میں ضلع بھی بنی مگر لیوی پیکٹ اور چیک پوسٹ مالاکنڈ کے حدود میں آج بھی قائم ہے جس کی آڑ میں باجوڑ قبائل کی مالاکنڈ کی حدود میں قومی جائیدادوں پرقبضہ کے پیش نظرنہ صرف مالاکنڈ کے قبائل میں شدید غم وغصہ پایا گیا بلکہ دونوں اطراف کے قبائل جرگوں اور انتظامی مداخلت کے باوجود بھی کئی مرتبہ بھاری ہتھیاروں کے ساتھ مورچہ زن ہوئے فائرنگ وجھڑپ سے مالاکنڈ لیوی کے ایک لیوی صوبیدار ابرارسمیت تین دیگر افراد کے زخمی ہونے کی ناخوشگوار واقعات پیش آئیں مگر کشیدہ صورت حال پر حکومت نے آنکھیں بند کررکھی ہے ذرائع کے مطابق باجوڑ اور مالاکنڈ کے قبائل کی ملکیتی جائیدادیں اس کی حدبندی اور تقسیم کے لیے کوئی بھی ادارہ تیار نہیں 2019ء میں ایک تحصیلدار نے اس کی حدبندی اور تقسیم کا فارمولہ تیارکیااور قبائل کو اس پر آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن 2020ء میں شجرکاری مہم کے دوران باجوڑ قبائل کی فائرنگ سے یہ معاملہ حل نہ ہوسکااور یوں یہ معاملہ ایک بار پھر خونریزی کی طرف بڑھ رہاہے گذشتہ ماہ ضلع مالاکنڈ کے قبائل کے ایک وفد نے گورنر خیبر پختونخوا غلام علی کے ساتھ ملاقات کی اور انہیں نہ صرف تمام تر صورت حال سے آگاہ کیا بلکہ مالاکنڈ کی حدود میں قائم باجوڑ لیوی فورس کی پیکٹ اور چیک پوسٹ کو دریا کے دوسرے پار باجوڑ کی حدود میں قائم کرانے کی استدعا بھی کی جس پر گورنر غلام علی نے آئی جی پی اور کمشنر مالاکنڈ ڈویژن کو تحریری ہدایات دی تاہم کمشنر نے باجوڑ انتظامیہ کو فوری طور پر تحریری مراسلہ بھیجااور آئی جی پی نے بھی معاملے کی نذاکت پر احکامات دی مگر تاحال کوئی نتیجہ برامد نہ ہوسکا ذرائع کے مطابق 2020ء میں باجوڑ کے حدود میں پیکٹ کی منتقلی اور تعمیر کے لیے باجوڑ انتظامیہ کو فنڈز بھی ریلیز ہوچکی ہے مگر اس پر کوئی کارروائی نہ ہوسکی۔