لاہور(مانند نیوز ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن)کے درمیان 8اگست کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ایک نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے 8اگست کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی تجویز دی تھی۔اسمبلی کی تحلیل کی تاریخ کے حوالہ سے جمعیت علماء اسلام (ف)کے امیر مولانا فضل الرحمان کو بھی اعتماد میں لے لیا گیا ہے۔وزیر اعظم میاں محمد شہبازشریف کی زیرصدارت ہونے والے ایک اجلاس میں قانونی ماہرین نے بھی قومی اسمبلی کی تحلیل کے حوالے سے 8اگست کی تجویز دی ہے۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی توڑنے کے حوالہ سے 9اور10اگست کی تاریخوں پر بھی غور کیا گیا تھا۔قومی اسمبلی کی تحلیل کے حوالہ سے وزیر اعظم میاں محمد شہبازشریف کی جانب سے سمری صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو بھجوائی جائے گی اور اگر صدر مملکت، وزیر اعظم کی جانب سے بھجوائی گئی سمری کی منظور ی دے دیں تو درست اوراگر سمری کی منظوری نہ بھی دیں تو خودبخود 48گھنٹے کی مدت ختم ہونے پر اسمبلی تحلیل ہو جائے گی۔ قومی اسمبلی کی مدت 12اگست رات 12بجے تک ہے۔آئین کے مطابق اگر اسمبلی اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے بعد خودبخود تحلیل ہوتی ہے تو پھر الیکشن کمیشن آف پاکستان 60روز کے اندر انتخابات کروانے کا پابند ہے تاہم اگر اسمبلی اپنی مدت پورے کرنے سے پہلے تحلیل کردی جائے تو پھر الیکشن کمیشن 90روز کے اندر انتخابات کرانے کا پابند ہے۔